Header Ads Widget

انتخابی سیاست اور اہلِ ایمان کی ذمہ داری. ایک برس قبل لکھا گیا مضمون (Voting Politics & Responsibility of Ahle Iman)

 

ماضی کے جھروکوں سے 

تحریر: ممتاز ہاشمی 

پاکستان میں عام انتخابات کا انعقاد ہونے جا رہا ہے ۔مختلف جماعتیں اور گروپس اس میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں ۔ عوام بھی اس میں کافی حد تک ملوث ہیں۔ اس انتخابی ماحول کی گرما گرمی نے رشتہ داریوں اور دوستیوں میں دراڑیں ڈال دی ہیں جو کہ یقیناً ایک شیطانی عمل ہے۔ان حالات میں اہل ایمان کا فرض ہے کہ وہ دین اسلام کے تناظر میں جمہوریت اور ان انتخابات کا جائزہ لیں۔دین اسلام میں جس طرح کی آزادی اور جمہوریت کی گنجائش ہے، اس کا تصور بھی رائج الوقت مغربی جمہوریت میں نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ یہ آزادی شریعت اور اللہ کے احکامات کے تابع ہے کیونکہ خالق نے مخلوق کے لیے جو احکامات دئیے ہیں ان میں کسی قسم کی معمولی تبدیلی یا تغیر کرنا شرک کے زمرے میں آتا ہے۔ صرف اُن معاملات میں اجتہاد کی گنجائش موجود ہے جس میں کوئی واضح حکم موجود نہ ہو اور یا پھرکوئی نئی صورتحال درپیش آ جائے۔ اجتہاد کے لیے بھی کڑی شرائط ہیں اور اس کے لیے مستند علماء کرام اور مفتیان ہی قابل قبول ہیں۔ اگر کوئی ایسا مسئلہ درپیش ہو جس میں کسی طرح سے بھی شریعت کی نفی نہیں ہو رہی ہو تو اس مسئلے پر اجتماعی طور پر اکثریت کی بنیاد پر بھی قانون تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ اللہ کی کامل حاکمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اکثریتی رائے کوخلافت کے ذریعے نافذ کرنے کو جمہوریت کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔
موجودہ جمہوریت کی شکل اور معاشرے میں اس کے اثرات کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ یہ دراصل ایک جاری ظالمانہ استحصالی نظام کو تحفظ دینے کا ذریعہ ہے اور اس میں کسی قسم کی انقلابی تبدیلی کی توقع رکھنا دھوکا ہو گا۔ اس جمہوری فتنہ کو موجودہ دور میں فکرِ اسلامی کے مجدد علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے بہت پہلے ہی بھانپ لیا تھا اور ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ میں اس طرح سے بیان کیا تھا:
ہُوں، مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھے
جو ملوکیّت کا اک پردہ ہو، کیا اُس سے خطر!
ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
جب ذرا آدم ہُوا ہے خود شناس و خود نگر
کاروبارِ شہریاری کی حقیقت اور ہے
یہ وجودِ میر وسُلطاں پر نہیں ہے منحصَر
مجلسِ ملت ہو یا پرویز کا دربار ہو
ہے وہ سُلطاں، غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر
تُو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہُوری نظام
چہرہ روشن، اندرُوں چنگیز سے تاریک تر!
  اس وضاحت کے بعد ہمیں اس نکتہ پر غور کرنا ہوگا کہ عوامی حاکمیت کا تصور جو آج کل کی جمہوریت کی روح ہے ، اسے کیونکر آج کے دور کا سب سے بڑا شرک قرار دیا جا سکتا ہے۔شرک سے مراد اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ذات اور صفات میں کسی اور کو شریک کرنا ہے۔
 فرعون کا دعویٰ بھی یہی تھا کہ حکم اسی کا چلے گا نہ کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا۔ اس نے کبھی بھی یہ دعویٰ نہیں کیا تھا کہ کائنات اُس نے تخلیق کی ہے، وہ تو بس اپنی حاکمیت اور فیصلوں کو خدائی احکامات پر بالادست قرار دیتا تھا۔ فرعون کا یہ شرک انفرادی تھاجبکہ آج کی جمہوریت کو اسی اصول کی بنیاد پراجتماعی شرک قرار دیا جا سکتا ہے۔
 اس مغربی جمہوریت کے علمبرداروں کی طرف سےآزادی ، اور انسانی خودمختاری کی بات بڑے شدومد سے کی جاتی ہے۔ اسے معاشرتی اور سماجی نظام کی ترقی کے لیے بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔ایسی مکمل انسانی آزادی اور خودمختاری درحقیقت اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی کلی وحدت کی نفی اور اس کے احکامات کی خلاف ورزیوں پر محیط ہے۔ آج کے سماجی، معاشی، اخلاقی قوانین ہماری اپنی پسند ، ناپسند، مصلحتوں اور سہولیات کی بنیاد پر تخلیق اور نافذ کیے جاتے ہیں نہ کہ خالق کائنات کے احکامات کے مطابق۔نتیجہ واضح ہے کہ آج پوری دنیا اس نظام میں جکڑی ہوئی ہے جو عوامی حاکمیت کے مشرکانہ نظریات پر قائم ہے۔ ہر لمحے ہر شعبہ زندگی میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے احکامات کی خلاف ورزیاں پوری شدت سے جاری ہیں۔ پوری دنیا میں دین اسلام مغلوب ہے جبکہ انسانی حاکمیت کا تصور غالب اوربالاتر ہے۔اس نظام کے تحت تمام دنیا میں ایلیٹ کلاس تمام وسائل پر قابض ہے اور اکثریت نامساعد حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ زندہ رہنے اور ایلیٹ کلاس کے لیے کام کرتے رہنے کے لیے انہیں جزوی طور پر کچھ سہولیات فراہم کر دی جاتی ہیں لیکن ان کا استحصال جاری رہتا ہے۔اس جمہوری نظام میں اگر کوئی انقلابی جماعت کبھی کبھار سامنے آتی بھی ہے تو وہ ایک وقتی چیز ہوتی ہے ۔وقت کے ساتھ وہ بھی اسی استحصالی نظام کا حصہ بن جاتی ہے یا ایک نام نہاد مزاحمت کے نام پرعوام کوبے وقوف بنانے کا ذریعہ بنتی ہے۔یہ تلخ حقیقت ایک سچے مومن کے لیے تشویشناک ہے۔ حقیقی ایمان رکھنے والوں کے لیے انتہائی مایوسی اور شرمندگی کا باعث ہے۔
یہ موجودہ دور کا سب سے بڑا شرک کیوں ہے، اس کوجاننے کے لیے ہمیں قرآن کا پیغام اور اس کی روح کو سمجھنے کی انتہائی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی مندرجہ ذیل آیات سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے:
’’ہم نے تورات نازل فرمائی ہے جس میں ہدایت ونور ہے، یہودیوں میں اسی تورات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ماننے والے انبیاء (علیہم السلام) اور اہل اللہ اور علماء فیصلے کرتے تھے کیونکہ انہیں اللہ کی اس کتاب کی حفاﻇت کا حکم دیا گیا تھا۔اور وه اس پر اقراری گواه تھے اب تمہیں چاہیئے کہ لوگوں سے نہ ڈرو اور صرف میرا ڈر رکھو، میری آیتوں کو تھوڑے تھوڑے مول پر نہ بیچو، جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی وحی کے ساتھ فیصلے نہ کریں وه (پورے اور پختہ) کافر ہیں۔‘‘ (سورۃ المائدہ، آیت 44)
’’اور ہم نے یہودیوں کے ذمہ تورات میں یہ بات مقرر کر دی تھی کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے، پھر جو شخص اس کو معاف کردے تو وه اس کے لئے کفاره ہے، اور جو لوگ اللہ کے نازل کئے ہوئے کے مطابق حکم نہ کریں، وہی لوگ ﻇالم ( مشرک ) ہیں۔ ‘‘ (سورۃ المائدہ، آیت 45)
’’اور انجیل والوں کو بھی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ انجیل میں نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق حکم کریں اور جو اللہ تعالیٰ کے نازل کرده سے ہی حکم نہ کریں وه (بدکار) فاسق ہیں۔‘‘ (سورۃ المائدہ، آیت 47)
ان قرآنی آیات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ آج ہم جس اجتماعی نظام کے تحت جی رہے ہیں وہ مکمل طور پر اللہ سبحانہ وتعالٰی کے احکامات کی نفی پر مبنی ہے ۔ اس طاغوتی نظام میں زندگی گزارنے والوں کو کافر، ظالم (مشرک ) اور فاسق کہا گیا ہے۔ اگرچہ معاشرے میں ایک قلیل تعداد میں ایسے لوگ ضرور موجود ہوتے ہیں جو کہ اپنی ذات کی حد تک احکاماتِ خداوندی کی پیروی کرتے ہیں، مگر چونکہ اجتماعی سطح پر قوانین اللہ تعالیٰ کے احکامات کے خلاف نافذ ہیں اس لیے تمام افراد اوپر دئیے گئے فیصلے میں شمار ہوتے ہیں۔
آج دُنیاوی زندگی کی حقیقت کو پرکھنے اور اپنے طرز ِعمل کا جائزہ لینے سےیہ حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے کہ اکثریت نہ صرف طاغوت کے نظام کے تحت ہنسی خوشی زندگی گزاررہی ہےبلکہ اس نظام سے ہر طرح کے فوائد حاصل کرنے کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں صرف بھی کر رہی ہے۔ایسے حالات و واقعات میں کسی فعال مزاحمت کے بغیر زندگی گزارنا موجودہ دور کا سب سے بڑا شرک ہے، جس میں ہم انفرادی طور پر اوربحیثیت مجموعی پوری امت مسلمہ ملوث ہے۔ایسے میں ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی صلاحیتیں اس استحصالی جمہوری نظام میں عملی شرکت کر کے اس کو مضبوط کرنے میں صرف کریں یا پھر دین اسلام کے نفاذ کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی مقرر کردہ راستے کو اپناتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ شخصی آمریت کے مقابلے میں جمہوری نظام کو ترجیح دینا چاہیے کیونکہ اس میں کچھ حد تک اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہوتی ہے۔چنانچہ دین اسلام کے غلبے کے لیے مصروف افراد اور جماعتوں کو بھی آسانی میسر ہوجاتی ہے۔ سیاست دین اسلام کا ایک اہم جزو ہے، اس لیے اہل ایمان اس سے مکمل طور پر الگ نہیں رہ سکتے۔ عملی سیاست کے دو حصے ہیں۔ ایک انقلابی سیاست اور دوسرا انتخابی سیاست۔انقلابی سیاست میں بھرپور شرکت اہل ایمان کا فرض ہے تاکہ وہ رسول آخرالزمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے گئے راستے پر چلتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔
جہاں تک انتخابی سیاست کا تعلق ہے، تو اس میں اسی قدر شمولیت کرنی چاہیےجس سے ایسے تمام استحصالی طبقات بے نقاب ہوں جو آمریت کی مضبوطی کے لیے کام کر رہے ہیں جبکہ ان عناصر کو اجاگر کیا جائے جو جمہوریت اور انسانی آزادی کے لیے جیسا بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس انتخابی سیاست میں عملی شرکت شرک پر مبنی نظام کو مضبوط کرنےکے مترادف ہو گی۔اب ہم میں سے ہر کوئی اپنے ایمان اور طرز عمل کا جائزہ لے اور خود اپنا احتساب کرے کہ وہ کس مقام پر ہے۔ جب صورتحال واضح ہو جائے گی تو پھر ہم سب کوحالات و واقعات کی روشنی میں اپنے ایمان کو زندہ کرنے اور اس شرک سے بچنے کے لیے اپنی منزل کا تعین کرنا آسان ہو جائے گا ۔اس سلسلے میں عملی اقدامات اور جدوجہد کےطریقہ کار کے لیےہر مرحلے پر سنت ِرسولؐ سے مکمل رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنا کردار متعین کرنے کے لیے ہمیں ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب ’’منہج انقلابِ نبویؐ ‘‘ اور ’’رسولِ انقلاب ؐکا طریق انقلاب ‘‘ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اللہ نے یہ کائنات عدل پر قائم کی ہے اور روز قیامت بھی اللہ ہر ایک سے عدل ہی کرے گا ۔ ہر شخص کا حساب اس کو دنیا میں حاصل طاقت، وسائل اور اختیارات کی بنیاد پر ہو گا۔ جس کے پاس ان چیزوں کی فراوانی ہو گی ان کا حساب سخت ہو گا اور جن کی پاس یہ چیزیں کم ہوں گی ان کا حساب نسبتاً آسان ہو گا۔یہی عدل کا تقاضا ہے۔واضح رہے کہ اس طاغوتی نظام کے خاتمے اور دین اسلام کے نفاذ میں ہماری جدوجہد اور شراکت قیامت کے دن سزا اور انعام کا واحد معیار ہوگی۔اللہ ہم سب شرک کو سمجھنے اور اس سے بچنےکے لیے جدوجہد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
(مندرجہ بالا مضمون کا ماخذ ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کے دروس و خطابات ہیں۔)


Post a Comment

0 Comments