Header Ads Widget

مسلمان ممالک کا شرمناک کردار

 تحریر: ممتاز ہاشمی 



 آج دنیا جس نازک صورتحال سے دوچار ہے اس میں اہل ایمان کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔ ہم میں ہر ایک کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ اللہ سبحان و تعالٰی پر ایمان اور اس کے احکامات کی کامل تکمیل ہی ہمارے لیے آخرت میں نجات کا واحد راستہ ہے۔

آج مسلمانوں پر یہود و ہنود اپنے سرپرستوں کی قیادت میں جو ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں وہ تاریخ کا  شرمناک ترین باب ہے۔

ایسے میں کچھ اہل ایمان خاص کو ایران کے مسلمان جو ان قوتوں کا مقابلہ کر رہے ہیں وہ قابل تحسین ہے اور قرآن مجید کی روشنی میں یہی کامیاب لوگ ہیں۔

مگر افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مسلمان ممالک کی غالب اکثریت اس مرحلے پر ہنود و یہود اور ان کے سرپرستوں کے ایجنٹوں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اور وہ مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کے عمل میں برابر کے شریک ہیں۔ اس کا سبب دنیاوی محبتیں اور مصلحتیں ہیں۔ اس کا کیفیت کوایک حدیث میں یوں بیان کی گئی ہے 

 "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں  تو ایک کہنے والے نے کہا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں «وہن» ڈال دے گا  تو ایک کہنے والے نے کہا: اللہ کے رسول! «وہن» کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے ۔ "

سنن ابوداؤد حدیث 4297

آج نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ان اسلام دشمن قوتوں نے ایران کے نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے اداروں پر جس بربریت سے حملہ کیا ہے وہ تمام قوانین جس کے وہ خود دستخط کردہ ہیں اس کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ مگر اس کے باوجود دنیا تو ایک طرف مسلمان ممالک صرف زبانی جمع خرچ کے کچھ بھی نہیں کر سکے۔

ان مسلم ممالک کے نام نہاد مزمتی بیانات کی صحیح ترجمانی امریکی وزیر خارجہ نے ان الفاظ میں کی ہے 

" جو ممالک اس حملے کی مذمت کر رہے ہیں وہ دراصل اس کو صحیح سمجھتے ہیں اور ان کو اس پر اطمینان بھی ہے  مذمتی بیانات صرف عوام کو دکھانے کے لیے ہیں "

یہ شرمناک صورتحال ہم نام نہاد مسلمانوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ ہماری اکثریت بے حسی اور دنیاوی مفادات میں مگن ہیں اور ان میں اللہ کے لیے غیرت و حمییت مکمل طور پر ناپید ہو چکی ہے۔

 حد تو یہ ہے کہ ان اسلام دشمن قوتوں کی حوصلہ افزائی کے عوض کوئی پیسے لے رہا ہے، کوئی دکھاوے کی مزمت کر رہاہے،  کوئی نوبل امن انعام کے لیے نامزد کر رہا ہے اور کوئی اپنی سرزمین پر آدے فراہم کر رہا ہے۔

اس طرح سے آج یہ مسلم ممالک  قریش مکہ کے ایک قبیلے کی ماند لگتے ہیں۔

اس نازک موقع پر اگر ہم  نے اپنا کردار ادا نہیں کیا تو روز قیامت ہماری سخت گرفت ہو گی۔

اللہ ہمیں ہدایت اور ہمت عطا فرمائے اور ہم مسلمان ہونے کے اپنے دعوی کو سچا ثابت کرنے کے اہل بن سکیں۔ اور ان اسلام دشمن قوتوں کو شکست دینے کیلئے تمام مسلمان ممالک کے حکمرانوں کو مجبور کرنے کے لیے عملی جدوجہد کا راستہ اختیار کریں۔


صرف دعاؤں سے کام نہیں ہو گا جبتک ان دعاؤں کا اظہار میں استطاعت کے مطابق عملی اقدامات شامل نہ ہوں۔ 

اللہ سبحانہ و تعالٰی کو ہم سب کو اپنا عملی کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اور مسلمانوں کو ہنود و یہود اور ان کے سرپرستوں پر مکمل فتح یابی عطا فرمائے۔ آمین

Post a Comment

0 Comments