Header Ads Widget

قدرتی آفات اور ہماری اشرافیہ کی بےحسی

 اگست 28، 2025

تحریر: ممتاز ہاشمی 



آج جب پاکستان کے عوام کی اکثریت تاریخ کے بدترین قدرتی آفات جو شدید بارشوں اور سیلاب کی صورت میں نازل ہوئی ہیں اور اس سے کشمیر،  کے پی کے میں شدید تباہی ہوئی ہے اور اب اس کا شدید ریلہ پنجاب میں داخل ہو  چکا ہے جس نے پنجاب کے مختلف علاقوں کو بہت بڑی تباہی سے دوچار کیا ہے اور اس کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کا بہاو جن  جن علاقوں سے گزر رہا ہے وہاں کے عوام کو گھر، مال مویشی کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اگرچہ  حکومتی سول و فوجی ریاستی اداروں کے بروقت اقدامات سے جانی نقصان کم ہوا ہے اور لاکھوں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے اور مزید کیا جا رہا ہے۔ ان متاثرین کے لئے سہولیات کی فراہمی ایک اہم مسئلہ ہے جو حکومت اور رفاہی تنظیمیں پورا کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ یہ تاریخ کا بدترین سیلاب اور قومی سانحہ ہے جس میں نہ صرف دیہاتی علاقے شدید متاثر ہوے ہیں بلکہ شہری اور نیم شہری علاقے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ کچھ دنوں بعد یہ سیلابی ریلے سندھ میں داخلے ہو جائیں گے اور اس کے لیے ابھی سے مناسب انتظامات کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ انتہائی دکھ اور افسوس کا مقام ہے کہ اس موقع پر ہمارے مراعات یافتہ، لبرل اور استحصالی طبقات جن کا پاکستان کے  وسائل  پر مکمل قبضہ ہے وہ اس قدرتی آفات کے موقع پر بھی کھیل کود اور دیگر تفریحات کو ترجیح دے رہیں ہیں 

ان حالات و واقعات سے متاثرین جن مشکلات کا شکار ہیں  ان کو سن اور دیکھ کر کوئی بھی شخص جس میں انسانیت کا ذرا بھی درد ہو گا وہ اپنے تفدیحات کے معمولات کو کم از کم وقتی طور پر ہی معطل کر دیتا ہے مگر انتہائی دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ ہم آج بھی اپنی روزمرہ کے معمولات اور عیاشیوں میں مصروف ہیں ملک میں کھیل کود، ناچ گانے اور دیگر تفریحات  جیسے پروگرام جاری و ساری ہیں  اور  میڈیا پر بجائے ان متاثرین کے مسائل، تازہ ترین صورتحال اور ان حل کے لیے مسلسل پروگرام  نشر ہوں ، ناچ گانت، کھیل کود، تفریحات اور غیر ضروری سیاسی معاملات اور دیگر پروگرام مسلسل جاری ہیں۔

کیا یہ سب کچھ ان متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف نہیں ہے؟

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس موقع پراجتماعی توبہ کرنے کا اہتمام کیا جاتا اور اللہ کی رضا کی خاطر اپنے وسائل کو ان متاثرین کے لیے وقف کرنے کی ترغیب دی جاتی۔ 

اس بات کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ صرف وہی افراد و تنظیمیں اس نازک موقع پر متحرک ہیں جن کو اللہ کا خوف ہے اور اللہ کی رضا کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ان متاثرین کی امداد کے لئے سرگرم عمل ہیں۔

اس ناگہانی آفات سے کھربوں روپوں کے نقصانات کا اندازہ ہے اس سے نمٹنے اور متاثرین کو خاطر خواہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے ریاستی وسائل بہت کم ہیں۔ اس لیے مخیر افراد اور اداروں کو اس میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

 اس سلسلے میں میری رائے میں حکومت کو مختلف تجارتی و کاروباری اداروں و افراد پر فلڈ ریلیف ٹیکس کا نفاذ کر نا چاہیے۔ یہ ٹیکس ان کی خالص منافع پر 10 تا 20 فیصد تک ہونا چاہیے۔ واضح رہے کہ اس کٹوتی سے ان اداروں اور افراد پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا کیونکہ اس کٹوتی سے ان کا ٹیکس کم ہو جائے گا۔

اگرچہ حکومتی سول بیوروکریسی میں ان متاثرین کی بحالی کیلئے پروگراموں میں ہمیشہ کرپشن کا حصہ ہوتا ہے اسلئے بہتر ہوگا کہ ان متاثرین کی بحالی کے منصوبوں پر عملدرآمد کیلئے اخوت جیسی تنظیموں کا انتخاب کیا جانا چاہیے جن پر سب کو اعتماد ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ میڈیا کو پابند کرے کہ وہ اپنا زیادہ وقت اس ناگہانی آفات کی کوریج کے لیے وقف کرے اور گاؤں،  قصبوں، تحصیل، ضلع اور شہر کی صورتحال اور احتیاطی تدابیر کو ترجیح دے۔

واضح رہے کہ اللہ اس طرح کے عذاب کے ذریعے لوگوں کو ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ گمراہی کو چھوڑ کو اللہ کی طرف رجوع کر لیں۔

 اللہ   کے  عذابوں کو پہچاننے  اور ان سے بچنے کا تذکرہ اللہ نے قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیات میں واضح طور پر بیان کیا ہے  آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اللہ سبحانہ و تعالٰی کے ان احکامات پر غور کریں اور اپنے لیے آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کا راستہ اختیار کرنے کا اہتمام کریں :

سورہ الشوری آیت 30

" تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے ،  اور وہ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے ۔ "   

سورہ فاطر آیت 45

" اور اگر اللہ تعالٰی لوگوں پر ان کے اعمال کے سبب دارو گیر فرمانے لگتا تو روئے زمین پر ایک جاندار کو نہ چھوڑتا  لیکن اللہ تعالٰی ان کو  ایک میعاد معین تک مہلت دے  رہا ہے سو جب ان کی وہ  میعاد آپہنچے گی اللہ تعالٰی اپنے بندوں کو آپ دیکھ لے گا ۔ "

سورہ الروم آیت 41

" خشکی اور تری میں لوگوں کی بد اعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا ۔  اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالٰی چکھا دے  ( بہت )  ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں ۔:  

سورہ الاعراف آیت 96

" اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا ۔  "

سورہ الاعراف آیت 168

"اور ہم نے دنیا میں ان کو مختلف جماعتوں میں بانٹ دیا ۔ چنانچہ ان میں نیک لوگ بھی تھے ، اور کچھ دوسری طرح کے لوگ بھی ۔ اور ہم نے انہیں اچھے اور برے حالات سے آزمایا ، تاکہ وہ ( راہ راست کی طرف ) لوٹ آئیں ۔"

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب اجتماعی توبہ و استغفار کا راستہ اختیار کریں اور آئندہ کے لیے اللہ سبحانہ  و تعالٰی کے احکامات پر عمل پیرا ہونے کا عہد کریں۔

اللہ سبحانہ و تعالٰی ہم سب کو ہدایت اور راہنمائی فراہم کرے اور ہم سب کو اللہ کے عذابوں سے بچنے کی راہ اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Post a Comment

0 Comments