تحریر: ممتاز ہاشمی
آج پہلی محرم سے اسلامی سال کا آغاز ہو رہا ہے یہ آغاز حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عظیم شہادت سے ہوتا ہے اسی ماہ میں نواسہ رسول محمد ﷺ اور خاندان کی عظیم شہادتوں واقع ہوئی اور اسلامی سال کا اختتام حضرت ابراہیم کی قربانی کے عظیم سبق پر ختم ہوتا ہے گویا کہ سال کے تمام ایام دن اسلام کے لیے دی جائے والی عظیم قربانیوں، عبادات، اور اہم مرحلوں سے وابستہ ہیں۔ اس موقع پر پر تاریخ عالم کے عظیم خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق ؓ کو یاد کرنے اور ان سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ مندرجہ ذیل احادیث خلیفہ ثانی کی عظمت کی مثالیں ہیں:
جب عمر رضی اللہ عنہ کو ( شہادت کے بعد ) ان کے بستر پر رکھا گیا تو تمام لوگوں نے جسم مبارک کو گھیر لیا اور ان کے لیے دعا اور مغفرت طلب کرنے لگے ،جسم مبارک ابھی اٹھایا نہیں گیا تھا ، میں بھی وہیں موجود تھا ۔ اسی حالت میں اچانک ایک صاحب نے میرا شانہ پکڑ لیا ، میں نے دیکھا تو وہ علی رضی اللہ عنہ تھے ، پھر انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دعائے رحمت کی اور ( ان یعنی حضرت عمرکو مخاطب کر کے ) کہا : آپ نے اپنے بعد کسی بھی شخص کو نہیں چھوڑا کہ جسے دیکھ کر مجھے یہ تمنا ہوتی کہ اس کے عمل جیسا عمل کرتے ہوئے میں اللہ سے جا ملوں اور خدا کی قسم ! مجھے تو ( پہلے سے ) یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ہی رکھے گا ۔ میرا یہ یقین اس وجہ سے تھا کہ میں نے اکثر رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سنے تھے کہ ” میں ، ابوبکر اور عمر گئے ۔ میں ، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے ۔ میں ، ابوبکر اور عمر باہر آئے ۔“🥹💚
صحیح بخاری 3681
"رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے خواب میں دودھ پیا ، اتنا کہ میں دودھ کی تازگی دیکھنے لگا جو میرے ناخن یا ناخنوں پر بہ رہی ہے ، پھر میں نے پیالہ عمر رضی اللہ عنہ کو دے دیا ۔ صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ ! اس خواب کی تعبیر کیا ہے آپ نے فرمایا کہ اس کی تعبیر علم ہے ۔"
صحیح بخاری 3685
" نبی کریم ﷺ احد پہاڑ پر چڑھے تو آپ کے ساتھ ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی تھے ، پہاڑ لرزنے لگا تو آنحضرت ﷺ نے اپنے پاؤں سے اسے مارا اور فرمایا ” احد ! ٹھہرا رہ کہ تجھ پر ایک نبی ، ایک صدیق اور دو شہید ہی تو ہیں ۔“
صحیح بخاری 3686
"عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے اپنے والد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعض حالات پوچھے ، جو میں نے انہیں بتا دیئے تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ کے بعد میں نے کسی شخص کو دین میں اتنی زیادہ کوشش کرنے والا اور اتنا زیادہ سخی نہیں دیکھا اور یہ خصائل حضرت عمر بن خطاب پر ختم ہو گئے ۔"
صحیح بخاری 3687
جن کے کپڑوں پر لگے 17 پیوند تو ملے لیکن زندگی پر کوئی داغ نہ ملا!!
ایسے امیرالمومنین کو عمر بن خطابؓ کہتے ہیں
خود چل رہے تھےپیدل اور خادم تھا سواری پر
دنیا نے حضرت عُمرؓ جیسا کوئی حکمران نہیں دیکھا۔
بھاگ جاتا تھا شیطاں تجھے دیکھ کر
اب بھی ابلیس تجھ سے خفا ہے عمر بن الخطاب ؓ
کائنات کی سب سے سچی زبان نے فرمایا:
"عمرؓ فی الجنۃ"
اس کے بعد "عمرؓ" پر دراز ہونے والی ہر زبان جھوٹی ہے۔۔
اٗٹھو بلال آج اذان چھپ کر نہیں کعبہ کی چھت پر جا کر دو
پتہ چلے عمر ؓ اسلام قبول کر چکا ہے یہ شان ہے میرے عمر ؓکی
تیرے قدموں کو ابھی تک ترستی ہیں اقصیٰ کی راہیں
عمر ابنِ خطاب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ زمانہ پھر سے تجھے یاد کرتا ہے
حضور اکرم ﷺ کا فرمان
"لو کان بعدی نبی لکان عمر ابن الخطاب"
میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر ابن الخطاب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ہوتے۔
آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی مرضی پر قرآن کریم فرقان حمید کی 22 آیات نازل ہوئیں
دنیا نے 22 لاکھ مربع میل کا ایسا حکمران بھی دیکھا ہے،جس کے کپڑوں پر 17 پیوند لگے تھے۔
حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں ہم کیا لکھ سکتے ہیں جس کے مبارک ہاتھوں سے لکھی ہوئی صرف دو سطروں سے دریائے نیل آج تک رواں دواں ہے۔
امیر المومنین عدل و انصاف کے پیکر مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ مُرادِ قلبِ رسول حضرت سیدنا عمر ابن خطاب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی شان و عظمت پہ لاکھوں کروڑوں سلام۔

0 Comments