ماضی کے جھروکوں سے
9 جون 2022 ( دو برس لکھا گیا مضمون )
تحریر: ممتاز ہاشمی۔
پاکستان معاشی بحران کے دہانے پر ہے اور جہاں تک عام
لوگوں کا تعلق ہے وہ تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہے ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ تمام حکومتوں کی پالیسیوں کا
مجموعہ ہے۔
اب جب نئے بجٹ کا اعلان ہونے جا رہا ہے تو بحرانوں پر
ایک حد تک قابو پانے کے لیے میرے پاس کچھ تجاویز ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ ہمارا سب سے بڑا مافیا بلڈر/ڈیولپرز
ہے جو کہ عرصہ دراز سے تقریباً ٹیکس فری سٹیٹس سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ یہاں تک
کہ پچھلی حکومتوں کے دور میں بھی انہیں 3 بار ٹیکس ایمنسٹی کی اجازت دی گئی اور
انہیں اپنا کالا دھن سفید کرنے کے لیے فراہم کیا گیا۔
یہ حقیقت ہے کہ قومی دولت کا بڑا حصہ ہاؤسنگ سکیموں
میں لگایا جا رہا ہے جو بنیادی طور پر اشرافیہ، اعلیٰ اور اعلیٰ متوسط طبقے کے
لیے بنائی گئی ہیں۔ لہذا، اس شعبے میں سرمایہ کاری کی گئی دولت چند لوگوں میں گردش
کرتی ہے اور بالآخر مکانات کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں ۔
نچلے متوسط اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والی آبادی
کی اکثریت کے لیے کوئی خاطر خواہ ہاؤسنگ اسکیمیں نہ ہی حکومت نے اور نہ ہی
پرائیویٹ سیکٹر نے متعارف کرائی ہیں۔ نتیجتاً مزید کچی آبادیوں کے علاقے بڑھ
رہے ہیں اور اس سے شہری مراکز میں یوٹیلیٹیز کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔
اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے:
ہاؤسنگ یونٹس کا ڈیجیٹل ریکارڈ چونکہ بہت سے
معاملات میں جائیدادوں کو صحیح طریقے سے منتقل نہیں کیا جاتا بلکہ پاور آف اٹارنی
پر فروخت کیا جاتا ہے، اس لیے آخری رجسٹرڈ مالکان سے کہا جانا چاہیے کہ وہ اصلی
مالک کا پتہ لگانے کے لیے دستاویزات فراہم کریں اور حکومت کی منتقلی کی فیس وصول
کریں۔
چارسوگز اور اس سے اوپر کی
پراپرٹی پر پراپرٹی ٹیکس میں خاطر خواہ اضافہ۔
5% دولت ٹیکس ان تمام ہاؤسنگ یونٹوں پر جہاں
مالکان رہائشی نہیں ہیں اور ان تمام افراد پر جن کے پاس ایک سے زیادہ ہاؤسنگ یونٹ
ہیں۔
شہروں کی ترقی کے حکام کو چاہیے کہ وہ اپنی
منصوبہ بندی اور بلڈنگ کے قوانین پر نظر ثانی کریں، تاکہ غریب اور نچلے
متوسط طبقے کے لیے سستی قیمتوں پر کم قیمت کی ہاؤسنگ کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔
آرکیٹیکٹ یاسمین لاری، نے کم کاسٹ ہاؤسنگ یونٹس
سے متعلق کافی کام کیا ہے اور اس سلسلے میں کم قیمت تعمیراتی مٹیرل اور ان کی
تفصیلات تیار کی ہیں جن پر کچھ جگہ پر محدود طور پر عمل بھی ہوا ہے ان کے اس مواد
کو بلڈنگ بائی لیز میں شامل کیا جانا چاہیے۔
اس اقدام سے مافیا کی حوصلہ شکنی ہو گی اور وہ اپنے
کالے دھن کو غیر ترقیاتی شعبے کی بجائے اس دولت کو حقیقی ترقیاتی منصوبوں
میں لگایا جائے گا۔
یہ صرف ایک قدم ہیں لیکن یہ اکیلے ہی ملک کی
معاشی ترقی اور حالیہ بحران پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔
|
|
ReplyForward Add reaction Quick Reply |

0 Comments