تحریر: ممتاز ہاشمی
آج پوری دنیا میں انسانیت ذہنی انتشار’ مایوسی اور بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ دنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصّہ معاشی ناہمواری پر مبنی استحصالی نظام کا شکار ہے جو کہ دنیا بھر میں نافذ جبر پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام کا نتیجہ ہے۔ اس معاشی ناہمواری نے مختلف مسائل کو جنم دیا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ عوام اور معاشرے پر اس کے انتہائی منفی اثرات مرتّب ہو رہے ہیں جس سے اس وقت دنیا جرائم کی کثرت’ بدامنی اور دہشت گردی کا شکار ہے۔ اس دہشت گردی کو مفاد پرست لوگ اپنی لالچ کی تکمیل کے لیے فروغ دے رہے ہیں۔ اس کا بڑا ہدف لوگوں میں خوف و ہراس کو فروغ دینا ہے’ جس کےلیےلوگوں کے درمیان مختلف بنیادوں پر تقسیم کرنے کے عناصر بیدار کیے جاتے ہیں۔
دراصل ان تمام واقعات کا محرک آج کے دور میں نافذ استحصالی نظام کو دوام بخشنا ہے۔ دنیا بھر کے مراعات یافتہ طبقے اس بارے میں مکمل طور پر یکجا اور متحد ہیں اور یہ استحصالی طبقات اپنی اس مہم میں مکمل طور پر کامیاب ہیں۔آج اکثریت مختلف قسم کےگروہی’لسانی’علاقائی اور جغرافیائی بنیادوں پر تقسیم ہوکر ان مراعات یافتہ طبقات کے بنائے ہوئے جبر اور استحصالی نظام کو دوام بخشنے کا کام اَنجانے طور پر بخوشی سرانجام دے رہی ہے۔اس کا لازمی نتیجہ انسانوں میں مختلف قسم کے سماجی اور اخلاقی مسائل کی شکل میں واضح ہے۔
ہمیں اپنے گردونواح اور اقوامِ عالم کے حالات وواقعات کا جائزہ لینے سے یہ بات انتہائی آسانی سے سمجھ آسکتی ہے کہ اس وقت اقوامِ عالم کی اکثریت انتہائی غربت اور کسمپرسی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ وہ اہم بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور ان کی سوچ اور جدّوجُہدکا محور زندہ رہنے کے لیے روزگار اور وسائل کی تلاش پر محیط ہے۔ ان کے پاس اس کائنات کے حقائق اور خالق کائنات کے بارے میں غور و فکر کرنے کا کوئی وقت نہیں ہے۔ دوسری طرف مراعات یافتہ طبقات جو کہ پوری دنیا میں حکومت کر رہے ہیں ان کی سوچ کا واحدمحور اپنی دولت میں اضافے اور عیش وعشرت کے نت نئے طریقوں کی ایجاد ہے۔
انسانی فطرت میں بنیادی طور اپنے مفادات کو دوسروں پر فوقیت دینے کا عنصر اہم ہے’ اس لیے انسانوں کے بنائے ہوئے نظام اور قوانین’بنیادی طور پر ان طاقتور’ مسند ِاقتدار پر قابض گروہوں اور طبقات کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنائےگئے ہیں’ لہٰذااس نظام میں عدم و انصاف کی فراہمی کا یقین کرنا انتہائی حماقت ہے۔صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جو تمام مخلوق اور کائنات کا خالق ہے اور وہی عدل پر مبنی نظام تخلیق کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
آج کل انسان اپنے اس مقصد سے بالکل اجنبیت اختیار کر چکا ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو تخلیق کرکے اشرف المخلوقات جیسے بہت بڑے منصب پر فائز کیا تھا۔تخلیق انسانی کے اس مقصد کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان کیاہے:
{وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ}(الذاریات)
‘‘میں نے جنات اورانسانوں کو محض اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔’’
اگرچہ اللہ ہی تمام کائنات و مخلوقات کا خالق ہے’مگر یہاں پر صرف انسانوں اور جنوں کی طرف اشارہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کی تخلیق کا واحد سبب ان کو ایک امتحانی مرحلے سے گزرتے ہوئے اپنی آخرت کے لیے خود راہ متعین کرنا ہے۔
عبادت کا مفہوم اللہ تعالیٰ کی ہمہ وقت’کلی اور مطلق اطاعت و غلامی میں پنہاں ہے اور اس غلامی کا تقاضا یہ ہے کہ اس عارضی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات کی قطعی اور مکمل پیروی کی جائے۔ اللہ کی اطاعت اور تمام احکامات کی تعمیل کے نظام کو اللہ نے’’ اسلام’’ کا نام دیا ہے اور اس کو اس طرح واضح کیا ہےکہ اللہ کا تخلیق کردہ نظامِ حیات یعنی دین اسلام ہی تمام انسانیت کو عدل پر مبنی نظام فراہم کرنے کا واحد راستہ ہے جس سے معاشرے میں معاشی’ معاشرتی’ اخلاقی’ سماجی سمیت تمام مسائل کا عادلانہ حل موجود ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ}(آلِ عمران)
‘‘جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرےوہ اس سے قبول نہ کیا جائے گا ۔اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا۔’’
اس سے اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ جو بھی انسان دین اسلام کے علاوہ کسی اور نظام کو اپنائے گا تو وہ دنیا میں بھی خسارہ اُٹھائے گا اور آخرت میں بھی۔
لفظ اسلام کا مادہ (root) ‘‘س ل م’’ ہے جس کے معنی ہیں: سلامتی’ امن ‘ پاکیزگی ‘ فرمانبرداری اور اطاعت۔ اصطلاحی معنوں میں اسلام کا مطلب ہے سر تسلیم خم کر دینا (to surrender) یعنی اللہ کی مرضی اور اس کے قانون کے مطابق زندگی گزارنا۔ لفظ ‘‘ایمان’’ کا مادہ ‘‘ا م ن’’ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ انفرادی اور عالمی سطح پر امن وسکون اللہ تعالیٰ کے سامنے کلی طور پر سر تسلیم خم کرنے سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حکم دیا ہے:
{یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَاۗفَّۃً وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ } (البقرۃ)
‘‘اے ایمان والو! اسلام میں مکمل طور پر داخل ہو جاؤ اور شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو۔ بے شک وہ تمہارا واضح دشمن ہے۔’’
اللہ تعالیٰ کے احکامات کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ دنیوی زندگی میں کامیابی کا معیار اور پیمانہ اللہ کے نظام یعنی دین اسلام کی اقامت کی جدّوجُہد پر مشتمل ہے۔ اس ضمن میں اس بات کو مدّ ِنظر رکھا جائے کہ ہم جو اُمّت ِمحمدی ہونے کے دعوے دار ہیں’ان پر اقامت ِ ِدین ِاسلام کی ذمہ داری لازم ہے۔ چونکہ دین ِاسلام عدل پر مبنی ہے’ اس لیے ہر شخص کے اقامت ِدین کے انفرادی کردار کو جانچنے کا پیمانہ اس کے انفرادی حالات و واقعات’ میسر وسائل’ صلاحیتوں’ اور اسباب سے ہو گا۔دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس امتحان میں کامیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور آخرت میں کامیابی کا مستحق بنائے۔ آمین! (مندرجہ بالا مضمون کا ماخذ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کے دروس ہیں۔)
0 Comments