Header Ads Widget

پنجاب میں ضمنی انتخابات کا جائزہ

ماضی کے جھروکوں سے 


جولائی 15، 2022 ( دو برس قبل لکھا گیا مضمون )

تحریر: ممتاز ہاشمی 

اگر کوئی غیر جانبدارانہ اور حقیقت پسندانہ
 انداز میں پنجاب میں منعقد ہونے والے ضمنی انتخابات کا جائزہ لیں تو یہ بات یقینی طور پر محسوس ہوتی ہے کہ اس میں عمران خان نے تمام اخلاقیات اور اصولوں کا جنازہ نکال دیا ہے۔ دو دن پہلے ہی سپریم کورٹ نے تحریک عدم اعتماد کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے جس نے عمران خان کے امریکی سازش کے نام نہاد بیانیہ کو نہ صرف منہدم کر دیا ہے بلکہ اس فیصلے بے عمران خان اور اسد قیصر، قاسم سوری اور صدر علوی کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے اس فیصلے کی روشنی سے ان لوگوں نے آئین کی خلاف ورزی کی اور اپنے عہدوں کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اسے اپنے مفادات کے لیے غیر آئینی طور پر استعمال کیا۔ 
اگرچہ صدر علوی چونکہ اپنے عہدے پر فائز ہیں اسلئے ان کے علاوہ دیگر تمام اشخاص پر آئین کی خلاف ورزی پر مقدمات دائر ہو سکتے ہیں اور وہ اب وفاقی حکومت اور پارلیمنٹ کے رحم و کرم پر ہیں ان حالات کو دیکھتے ہوئے عمران خان نے اپنی بقاء کے لیے مزید رویہ سخت کردیا ہے تاکہ اس سے بچنے کے لیے ملک میں انتشار اور افراتفری پیدا کرنے کی پیش بندی کرنے میں مصروف ہیں 
یہ بات بالکل واضح ہے کہ عمران خان نے صرف اور صرف عوام کے امریکی مخالف جذبات کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا لیکن اس کے بھیانک نتائج نے ملکی مفادات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور دنیا بھر میں پاکستان کے وقار کو انتہائی دھچکا لگا ہے جس کے اثرات سے نکلنے کے لیے آئندہ حکومت کو بڑی جدوجہد کرنا پڑے گی۔
عمران خان کے حالیہ دنوں کی تقاریر کو اس کی کچھ ہی عرصہ پہلے والی تقاریر سے موزانہ کریں تو ہمیں بہت مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا ان تمام تقاریر میں کبھی بھی عمران خان نے اپنی چار سالہ حکومت کی کارکردگی پر کوئی بات نہیں کی ہے کیونکہ اس کے پاس کارکردگی کا کوئی قابل ذکر کام اس دور میں دیکھنے کو نہیں ملا۔
وہ صرف جھوٹ ، نفرت اور دروغ گوئیاں کو استعمال کرتے ہوئے پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے 
ابھی چند ہفتے پہلے ہی عمران خان نے اپنی حکومت کی نااہلی اور ناکامی کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حکومت میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں کا حساب رکھنے کے لیے نہیں آیا تھا بلکہ اس اس کے نزدیک بہت بڑے دوسرے مقاصد تھے اگرچہ اس کے دور میں کوئی بھی واضح پالیسی اور مقاصد دیکھنے کو نہیں ملا۔ لیکن آج ان انتخابات کی مہم میں عمران خان تمام روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں کا چارٹ پڑھ کر سنائی دیتا ہے  

اب ان ضمنی انتخابات کا جائزہ لیں تو یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ جن بیس سیٹوں پر یہ انتخابات ہو رہے ہیں وہ تمام پی ٹی آئی کے ممبران کی طرف خالی ہونے والی نشستوں پر ہو رہیں ہیں اسلئے اگر پی ٹی آئی ان نشستوں کو دوبارہ سے بھی جیت جاتی ہے تو کوئی غیر معمولی بات نہیں ہو گی لیکن شاید عمران خان کو اس بات کا ادراک ہے کہ آج کوئی غیبی قوت ان کی پشت پر نہیں ہے جو پہلے کی طرح آر ٹی ایس کو بند کر کے من پسند کے نتائج کا اعلان کر دیں جو انہوں نے پچھلے انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے حاصل کیا تھا اس لئے اس نے انتخابی مہم میں اداروں کی غیر جانبداری پر تنقید کرتے ہوئے ان کو اپنے کردار ادا کرنے میں مداخلت کر رہا ہے جس پر اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ 
یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ ان انتخابات میں جن لوگوں نے مسلم لیگ کی پنجاب میں وزیر اعلی کے انتخابات میں حمایت کی تھی ان کو مسلم لیگ کے ٹکٹ دینے اور شیر کے نشان پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے ان تمام لوگوں کو عمران خان نے لوٹوں کا نام دیا ہے اور اپنی انتخابی مہم میں اس کو بھرپور اُجاگر کیا ہے یہ بات قابل ذکر ہے جب ان لوگوں کو کورٹ نے سیٹوں سے محروم کردیا تو ان میں سے کھچ لوگوں نے نظر ثانی کی درخواست دائر کر رکھی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی ہم نے نہیں بلکہ خود عمران خان نے کی ہے ان کے مطابق انہوں نے پارٹی کے اس بیانیہ پر عوام سے ووٹ لئے تھے کہ پرویز الٰہی پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو ہے اور اب جب عمران خان نے اسی ڈاکو کو سب سے بڑے عہدے کے لیے نامزد کیا ہے تو انہوں نے اس فیصلے کو پارٹی کی بنیادی بیانیہ سے متضاد پا کر اس کی مخالفت کی۔
ان ضمنی انتخابات میں سب سے زیادہ عمران خان کو جس بات نے بےنقاب کیا ہے وہ ان لوگوں کو ٹکٹ دے کر کیا ہے جو آج تک مسلم لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیتے آئیے تھے لیکن چونکہ اس مرتبہ مسلم لیگ نے ان کی بجائے ان لوگوں کو ٹکٹ دیا جو تحریک انصاف سے تھے اور انہوں نے وزیر اعلی پنجاب کے انتخابات میں حمزہ شہباز کو ووٹ دیا تھا اور جس کی وجہ سے وہ اپنی نشستوں سے محروم ہو گئے تھے عمران خان نے ان مسلم لیگی امیدواروں کو تحریک انصاف کے ٹکٹ ڈیکر خود ہی اپنے لوٹے کے بیانیہ کو دفن کر دیا ہے 
آج انتخابی صورتحال انتہائی دلچسپ ہے اور کافی تعداد میں اج پرانے تحریک انصاف کے لوگ مسلم لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اور مسلم لیگ کے پرانے امیدوار آج سے ایک ماہ پہلے پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر تحریک انصاف میں شامل ہو کر اس کے ٹکٹ پر ان انتخابات میں حصہ لے رہیں ہیں یہ ہماری سیاسی تاریخ کا لازمی حصہ ہے اور اس میں پاکستان کی اکثر پارٹیاں شامل ہیں۔
ان انتخابات میں عمران خان کو واضح کامیابی کا یقین نہیں ہے اور اس کا زیادہ زور ابھی سے انتخابات میں نام نہاد دھاندلی کا پروپیگنڈہ پر ہے لیکن اس کے لیے ثبوت چاہیے ہوتے ہیں تاکہ اس بارے میں اگر کوئی غیر قانونی عمل ئو رہا ہے تو متعلق ادارے اس پر ایکشن لیں تاہم ان میں ایک الزام کی طرف توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے جو کہ ایک شکایت کی شکل میں تحریک انصاف کے امیدوار زین قریشی کے خلاف پر ایک انکوائری تشکیل دی گئی ہے تحریک انصاف کے اس ملتان سے امیدوار جو کہ تحریک انصاف کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی کے فرزند ہیں ان پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ وہ 10 ووٹوں کے حلف پر ایک موٹر سائیکل دے رہیں ہیں اب اس انکوائری کے بعد ہی حقیقت کا ادراک ہو سکے گا مگر اس نشست پر سخت مقابلے کی توقع ہے اسی لیے شاہ محمود قریشی پوری الیکشن کمپین میں صرف اسی حلقے میں محدود ہو کر رہ گئے ہیں دوسری جانب یہ بھی خبروں میں ہے کہ پرویز الٰہی اس نشست پر زین قریشی کو جیتا ہوا نہیں چاہتا کیونکہ اس بناء پر شاہ محمود قریشی ان کی وزارت اعلی پنجاب کی امیدواران میں رکاوٹ محسوس کریں گے

آج اس بات کے واضح ثبوت موجود ہیں کہ ان انتخابات پر پاکستان اور تمام دنیا کے ان تمام اداروں کی کڑی نظر ہے جو انتخابات میں ضوابط کے خلاف ورزیوں کو مانیٹر کرنے اور اس کو رپورٹ کرتے ہیں 
ایسی صورتحال میں ان چند حلقوں میں ان انسانی حقوق کے اداروں کی نگرانی ہو گی اور کسی قسم کی دھاندلی کی گنجائش نہیں ئو گی۔ میں نے خود ان اداروں کے ساتھ الیکشن مانٹرینگ کی ہے اور ان کے طریقہ کار اور صلاحیتوں کا گواہ ہوں۔
دوسری طرف عمران خان ہر روز الیکشن کمیشن اور کچھ نامعلوم افراد کے نام لیکر ان پر نامناسب الزامات لگا رہے ہیں اگر عمران خان سچا ہے تو اس کو بجائے ایکس اور واے کے ان افراد کے نام لینے چاہیے اور ثبوت کے ساتھ عدلیہ اور میڈیا کو پیش کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ اگر کوئی ایسی چیز ہے تو اس کا اسی وقت سدباب کیا جا سکے۔
لیکن کیونکہ ایسا کچھ بھی زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا بلکہ یہ عمران خان کی ایک انتہائی خطرناک اور ملک دشمن ایجنڈے کا حصہ ہے عمران خان اس مہم میں اسٹیبلشمنٹ کو مجبور کرنا چاہتا ہے کہ وہ اپنی غیر جانبدارانہ حیثیت کو چھوڑ کر دوبارہ اس کو اقتدار میں لانا کا اہتمام کریں اور اس پر اور کے خاندان پر لگنے والے سنگین الزامات سے اس کو بچانے کا اہتمام کریں 
دوسری صورت میں وہ ان انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا کر ملک میں انتشار اور لاقانونیت کی فضا کو فروغ دینا ہے جس کا فائدہ صرف ملک دشمن عناصر کو پہنچے گا اور ملک کے عوام کے لیے مزید دشواریاں پیدا ہوں گی۔

آئیے اللہ سے دعا کریں کہ وہ عمران خان کو اس کے مذموم مقاصد میں ناکام کرے اور ملک کو مزید بحرانوں سے نکال کر ترقی کے راستے پر گامزن کرے آمین۔

Post a Comment

0 Comments