Header Ads Widget

ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب بیان القرآن حصّہ پنجم سے اقتباس



سُورۃُ لُقمٰن آیات 31 تا 34

{اَلَمۡ تَرَ اَنَّ الۡفُلۡکَ تَجۡرِیۡ فِی الۡبَحۡرِ بِنِعۡمَتِ اللّٰہِ لِیُرِیَکُمۡ مِّنۡ اٰیٰتِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوۡرٍ ﴿۳۱﴾وَ اِذَا غَشِیَہُمۡ مَّوۡجٌ کَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۚ فَلَمَّا نَجّٰہُمۡ اِلَی الۡبَرِّ فَمِنۡہُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ؕ وَ مَا یَجۡحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا کُلُّ خَتَّارٍ کَفُوۡرٍ ﴿۳۲﴾یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمۡ وَ اخۡشَوۡا یَوۡمًا لَّا یَجۡزِیۡ وَالِدٌ عَنۡ وَّلَدِہٖ ۫ وَ لَا مَوۡلُوۡدٌ ہُوَ جَازٍ عَنۡ وَّالِدِہٖ شَیۡئًا ؕ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ٝ وَ لَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللّٰہِ الۡغَرُوۡرُ ﴿۳۳﴾اِنَّ اللّٰہَ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ السَّاعَۃِ ۚ وَ یُنَزِّلُ الۡغَیۡثَ ۚ وَ یَعۡلَمُ مَا فِی الۡاَرۡحَامِ ؕ وَ مَا تَدۡرِیۡ نَفۡسٌ مَّاذَا تَکۡسِبُ غَدًا ؕ وَ مَا تَدۡرِیۡ نَفۡسٌۢ بِاَیِّ اَرۡضٍ تَمُوۡتُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ ﴿٪۳۴﴾}
آیت ۳۱ {اَلَمۡ تَرَ اَنَّ الۡفُلۡکَ تَجۡرِیۡ فِی الۡبَحۡرِ بِنِعۡمَتِ اللّٰہِ لِیُرِیَکُمۡ مِّنۡ اٰیٰتِہٖ ؕ} ’’کیا تم دیکھتے نہیں کہ کشتیاں چلتی ہیں سمندر میں اللہ کی نعمتوں کو لے کر تا کہ وہ دکھائے تمہیں اپنی نشانیوں میں سے۔‘‘
 یعنی یہ اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے کہ دریائوں اور سمندروں میں کشتیاں اور بڑے بڑے جہاز ہزاروں ٹن وزنی سازو سامان اٹھائے رواں دواں ہیں۔
 {اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوۡرٍ ﴿۳۱﴾} ’’یقینا اس میں نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہے۔‘‘ 
 صَبَّار‘ فَعَّال کے وزن پر اور شَکُوْر‘ فَعُوْل کے وزن پر مبالغے کے صیغے ہیں‘ یعنی بہت زیادہ صبر کرنے والا اور بہت زیادہ شکر کرنے والا۔
آیت ۳۲ {وَ اِذَا غَشِیَہُمۡ مَّوۡجٌ کَالظُّلَلِ} ’’اور جب کبھی (سمندر میں) موج انہیں ڈھانپ لیتی ہے سائبانوں کی طرح‘‘
 بحری سفر کے دوران جب کبھی یہ لوگ طوفان میں پھنس جاتے ہیں اور سائبانوں کی طرح پھیلی ہوئی موجیں انہیں اپنی طرف ایسے بڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں جیسے کہ وہ ان کے اوپر سے گزر جائیں گی۔ 
 {دَعَوُا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۚ} ’’تو وہ پکارنے لگتے ہیں اللہ کو‘ اس کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔‘‘ 
 {فَلَمَّا نَجّٰہُمۡ اِلَی الۡبَرِّ فَمِنۡہُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ؕ} ’’پھر جب وہ انہیں نجات دے کر خشکی پر لے آتا ہے تو ان میں کچھ ہی ہیں جو میانہ روی اختیار کرتے ہیں۔‘‘
 یعنی ان میں سے اکثر و بیشتر توحید خالص سے برگشتہ ہو کر پھر شرک کی راہ اختیار کر لیتے ہیں۔ 
 {وَ مَا یَجۡحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا کُلُّ خَتَّارٍ کَفُوۡرٍ ﴿۳۲﴾} ’’اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر وہی لوگ جو قول کے جھوٹے اور نا شکرے ہیں۔‘‘ 
آیت ۳۳ {یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمۡ وَ اخۡشَوۡا یَوۡمًا لَّا یَجۡزِیۡ وَالِدٌ عَنۡ وَّلَدِہٖ ۫} ’’اے لوگو! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو اور ڈرو اُس دن سے جس دن کوئی باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام نہیں آئے گا‘‘ 
 {وَ لَا مَوۡلُوۡدٌ ہُوَ جَازٍ عَنۡ وَّالِدِہٖ شَیۡئًا ؕ} ’’اور نہ ہی بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکے گا۔‘‘
 باپ اور بیٹے کے حوالے سے قریب ترین رشتے کا ذکر کر کے گویا اس سے نچلے درجوں کے تمام رشتوں اور تعلقات کے بارے میں واضح کر دیا گیا کہ اس دن کوئی کسی کے کام نہیں آ سکے گا۔ جیسا کہ سورۃ البقرۃ میں ارشاد ہوا : {وَ اتَّقُوۡا یَوۡمًا لَّا تَجۡزِیۡ نَفۡسٌ عَنۡ نَّفۡسٍ شَیۡئًا وَّ لَا یُقۡبَلُ مِنۡہَا شَفَاعَۃٌ وَّ لَا یُؤۡخَذُ مِنۡہَا عَدۡلٌ وَّ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۴۸﴾} ’’ اور ڈرو اُس دن سے جس دن کام نہ آ سکے گی کوئی جان کسی دوسری جان کے کچھ بھی اور نہ کسی سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی اور نہ ہی کسی سے کوئی فدیہ لیا جائے گا اور نہ ہی انہیں کوئی مدد مل سکے گی۔‘‘ 
 {اِاِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ٝ} ’’یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے ‘تو (دیکھو!) تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے دُنیا کی زندگی۔‘‘ 
 ایسا نہ ہو کہ تم دنیا کی زندگی کی زیب و زینت پرریجھ کر اصل زندگی کو بھول جاؤ۔ 
 {وَ لَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللّٰہِ الۡغَرُوۡرُ ﴿۳۳﴾} ’’اور( دیکھنا !)تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے اللہ کے حوالے سے وہ بڑا دھوکے باز۔"
 اللہ کے بارے میں انسان کو دھوکے میں ڈالنے کے لیے شیطان طرح طرح کے حربے آزماتا ہے۔ بعض اوقات وہ انسان کو ہمدردانہ انداز میں باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ اللہ بڑا غفار ّہے‘ اس کی رحمت اور مغفرت بہت وسیع ہے ‘تم خواہ مخواہ گھبرا رہے ہو‘ کاہے کو توبہ کا سوچتے ہو؟ اگر آج تمہیں موقع ملا ہے تو جی بھر کرعیش کرلو‘ پھر یہ وقت ہاتھ نہیں آئے گا۔ رہا بخشش کا مسئلہ تو اس کی فکر نہ کرو‘ اللہ بڑے بڑے گنہگاروں کو بھی بخش دے گا۔
آیت ۳۴ {اِنَّ اللّٰہَ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ السَّاعَۃِ ۚ} ’’یقینا اللہ ہی ہے جس کے پاس ہے قیامت کا علم۔‘‘
 اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ گھڑی کب آئے گی۔ عام طور پر ہم ’’قیامت‘‘ اور ’’السّاعۃ‘‘ کے الفاظ کو ایک دوسرے کی جگہ استعمال کرتے ہیں اور انہیں باہم مترادف الفاظ سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ ان دونوں میں سے ہر لفظ کا اپنا الگ مفہوم ہے۔ ’’السَّاعۃ‘‘ کے معنی مخصوص گھڑی کے ہیں اور قرآنی اصطلاح کے مطابق ’’السَّاعۃ‘‘ وہ معین ّگھڑی ہے جب پوری زمین زلزلے سے جھنجھوڑڈالی جائے گی‘ اجرامِ سماویہ ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں گے اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اُڑتے پھریں گے۔ مثلاً سورۃ القارعہ میں ’’السَّاعۃ‘‘ کا نقشہ اس طرح کھینچا گیا ہے: {اَلۡقَارِعَۃُ ۙ﴿۱﴾مَا الۡقَارِعَۃُ ۚ﴿۲﴾وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الۡقَارِعَۃُ ؕ﴿۳﴾یَوۡمَ یَکُوۡنُ النَّاسُ کَالۡفَرَاشِ الۡمَبۡثُوۡثِ ۙ﴿۴﴾وَ تَکُوۡنُ الۡجِبَالُ کَالۡعِہۡنِ الۡمَنۡفُوۡشِ ؕ﴿۵﴾} ’’وہ کھڑ کھڑانے والی! کیا ہے وہ کھڑکھڑانے والی؟ اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ کھڑکھڑانے والی! جب لوگ ایسے ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے پتنگے۔ اور پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی روئی۔‘‘ 
 اسی طرح لفظ ’’قیامت‘‘ کا جائزہ لیں تو اس کے لغوی معنی قیام کرنے اور کھڑے ہونے کے ہیں اور اس سے وہ وقت یا وہ دن مرا دہے جب تمام لوگ دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے۔ 
 {وَ یُنَزِّلُ الۡغَیۡثَ ۚ } ’’اور وہی بارش برساتا ہے ۔ ‘‘ 
 {وَ یَعۡلَمُ مَا فِی الۡاَرۡحَامِ ؕ} ’’اور وہ جانتا ہے جو کچھ رحموں میں ہے۔‘‘ 
 {وَ مَا تَدۡرِیۡ نَفۡسٌ مَّاذَا تَکۡسِبُ غَدًا ؕ} ’’اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل وہ کیا کمائی کرے گی۔‘‘ 
 {وَ مَا تَدۡرِیۡ نَفۡسٌۢ بِاَیِّ اَرۡضٍ تَمُوۡتُ ؕ } ’’اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں اُس کی موت واقع ہو گی۔‘‘
 اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک آدمی ساری عمر ایک جگہ مقیم رہا‘ مگر کبھی اچانک وہ کسی دوسرے ملک گیا اور وہاں اس کی موت واقع ہو گئی‘ جبکہ اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اُسے موت اس دیارِ غیر میں آئے گی۔ 
 {اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ ﴿٪۳۴﴾} ’’یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا‘ ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔‘‘ 
 اس آیت کے حوالے سے کچھ لوگ خواہ مخواہ اشکال پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے اس کا مفہوم اچھی طرح سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں پہلا نکتہ یہ نوٹ کر لیں کہ جن پانچ چیزوں کا ذکر اس آیت میں ہو اہے ان میں سے پہلی اور آخری دو یعنی ُکل تین چیزیں ایسی ہیں جن کے ذکر میں ’’حصر‘‘ کا اسلوب ہے‘ یعنی ان
میں دو ٹوک نفی (categorical denial) موجود ہے کہ ان چیزوں کا علم صرف اللہ کو ہے‘ اُس کے سوا کوئی دوسرا اُن کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ یہ تین چیزیں ہیں: (۱) عِلمُ السَّاعۃ‘ (۲)اس چیز کا علم کہ کل کوئی کیا کرے گا ‘ اور(۳)کسی کو اپنی موت کی جگہ کا علم ہونا۔جبکہ باقی دو چیزوں (دوسری اور تیسری) کے ذکر میں ’’حصر‘‘ کا اسلوب نہیں ہے۔ یعنی ان کا ذکر کرتے ہوئے کسی دوسرے کے علم کی نفی نہیں کی گئی ۔ بلکہ بارش کے حوالے سے تو یہاں اللہ کی قدرت کا ذکر ہوا ہے‘ نہ کہ اُس کے علم کا ‘کہ اللہ بارش برساتا ہے ۔ اس سلسلے کے دوسرے فرمان (وَیَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ) میں بھی اللہ کے علم کا ذکر ہے کہ وہ جانتا ہے جو کچھ رحموں کے اندر ہے‘ اور یہاں بھی ’’حصر‘‘ کا اسلوب نہیں ہے۔ یعنی کسی دوسرے کے علم کی یہاں بھی نفی نہیں کی گئی۔ چنانچہ قرآن کے ان الفاظ میں نہ تو کوئی اشکال ہے اور نہ ہی کسی اعتراض کی کوئی گنجائش موجود ہے۔ البتہ بعض لوگ اس حدیث پر اعتراض کرتے ہیں جواس آیت کی وضاحت میں وارد ہوئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی متفق علیہ ’’حدیث جبریل‘‘ میں مذکور ہے کہ نووارد شخص (جو دراصل حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے)نے رسول اللہﷺ سے ایمان‘ اسلام اور احسان کے بارے میں سوالات کرنے کے بعد دریافت کیا : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَتَی السَّاعَۃُ؟ ’’اے اللہ کے رسولﷺ! قیامت کب آئے گی؟‘‘ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا: ((مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْھَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ!)) ’’جس سے پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا!‘‘--- اس کے بعد رسول اللہﷺ نے قیامت کی چند علامات بیان فرمائیں اور پھر ارشاد فرمایا: ((فِیْ خَمْسٍ لَا یَعْلَمُھُنَّ اِلَّا اللّٰہُ)) ’’پانچ چیزوں کے بارے میں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا‘‘۔ پھر آپﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {اِنَّ اللّٰہَ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ السَّاعَۃِ ۚ وَ یُنَزِّلُ الۡغَیۡثَ ۚ وَ یَعۡلَمُ مَا فِی الۡاَرۡحَامِ ؕ وَ مَا تَدۡرِیۡ نَفۡسٌ مَّاذَا تَکۡسِبُ غَدًا ؕ وَ مَا تَدۡرِیۡ نَفۡسٌۢ بِاَیِّ اَرۡضٍ تَمُوۡتُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ ﴿٪۳۴﴾ } (۱) 
 اس حدیث کے حوالے سے عام طور یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ آج کل ماں کے پیٹ کے اندر بچے کی جنس کے بارے میں معلوم کیا جا سکتا ہے‘ لہٰذا یہ دعویٰ درست نہیں کہ اس کے بارے میں اللہ کے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا۔ لیکن غور کیا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ یہ اعتراض بھی درست نہیں ۔ کیونکہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے؟ اب تک انسان اس کے صرف ایک پہلو یعنی بچے کی جنس (لڑکا یا لڑکی) کے بارے میں ہی معلوم کر سکا ہے‘ جبکہ اس کے بہت سے دوسرے پہلوؤں کے بارے میں کوئی کچھ نہیں جا ن سکتا۔ مثلاً ماں کے پیٹ میں موجود بچے کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں ہو سکتا کہ وہ بچہ کن صلاحیتوں کا مالک ہو گا؟ ذہین و فطین ہو گا یا کند ذہن‘ نیکو کار ہو گا یا بدکار ۔ اسی طرح بارش کے بارے میں محکمہ موسمیات کی پیشین گوئیوں کی حقیقت ظن و تخمین سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی۔ چنانچہ اس توجیہہ کی موجودگی میں حدیث کے الفاظ پر بھی اعتراض کی گنجائش نہیں رہتی ۔
بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایّاکم بالآیات والذِّکر الحکیم ____________________________ (۱) صحیح البخاری‘ کتاب الایمان‘ باب سؤال جبریل النبیﷺ عن الایمان والاسلام والاحسان وعلم الساعۃ… وصحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب بیان الایمان والاسلام والاحسان۔
 

Post a Comment

0 Comments