تحریر: ممتاز ہاشمی
کراچی کی مصروف ترین شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ چند ان صف اول کے کاروباری مراکز میں شمار کیا جاتا ہے جہاں یومیہ بنیادوں پر سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ خریداری کے لیے آتے تھے اور یہاں سے تھوک کا کام بھی ہوتا تھا لیکن بد قسمتی سے چند گھنٹوں میں جل کر راکھ کا ڈھیر بن گیا ہے۔
اس سے درجنوں قیمتی انسانی جانوں و نال و اسباب کا ضیاع
ہوا۔ ابھی تک ریسکو کا عمل جاری ہے اسلئے حتمی طور پر نقصان کا اندازہ نہیں لگایا
جاسکتا ہے۔
حسب معمول مختلف جماعتیں تنظیمیں و افراد ایک دوسرے اور
اداروں کو اس کا مورد الزام ٹھہرا رہی ہیں۔
اس واقعہ کے اسباب کو وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت
ہے۔ جس میں زمینی اسباب کے عوام آسمانی اسباب کو بھی شامل کرنے کی ضرورت ہے۔
زمینی اسباب
اطلاعات کے مطابق اس کا تعمیراتی نقشہ اور عمارت کی
تعمیرات 1980 کی دہائی میں کی گئی تھی۔ اور یہ شاہد گراونڈ پلیس ون فلور تھا جو
بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز کے تحت اس پر تعمیر کرنے کی اجازت تھی۔
مگر ہوس و لالچ میں مبتلا بلڈر مافیا نے کراچی کے دیگر
علاقوں کی طرح اس پر بھی غیر قانونی اضافی منزلیں تعمیر کرنا شروع کر دی جو 1998
میں کیا گیا۔ جس میں بلڈر کی سہولت کاری میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا عملہ اور
دیگر ادارے شامل تھے اس غیر قانونی تعمیرات سب نے اپنا حصہ وصول کرتے ہوئے اس غیر
قانونی عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا اہتمام کیا۔
غیر قانونی تعمیرات میں بلڈر اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی
کے عملے کے علاوہ اس پراجیکٹ سے منسلک آرکیٹیکچرڈیزائنر، انجینئرز، کنٹریکٹر،
میٹریل سپلائر، ڈسٹرکٹ ایڈمیشن، عدلیہ، وکلاء، یوٹیلیٹی ادارے سب ہی شامل عمل یوتے
ہیں مگر اس میں ان لوگوں کا بڑا کردار ہے جو جانتے بوجھتے ان غیر قانونی پراجیکٹ
میں دوکانیں خریدتے ہیں اور اس میں حفاظتی اقدامات کو بھی دیکھنے کی زحمت گوارا
نہیں کرتے۔ اس کے بعد اس میں مارکیٹ کمیٹی بھی اہم حیثیت رکھتی ہے جو اس کی دیکھ
بھال و حفاظتی انتظامات کی ذمہ دار ہوتی ہے مگر کوئی بھی اپنا فرض ادا نہیں کرتا
سب لالچ و ہوس میں مبتلا ہوتے ہیں۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب ان غیر قانونی اضافی
منزلوں کی تعمیرات کی گئی تو اس میں پارکنگ ایریا میں دکانیں بنیں اور چھت کو
پارکنگ میں بدلا گیا اور غیر قانونی طور پر 2003 میں ان تعمیرات کو ریگولائز کر
دیا گیا تھا۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس کے تحت اس قسم کی تعمیرات کو ریگولائز
کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے صرف چند معمولی نوعیت کی تبدیلیاں ہی ریگولائز
کیا جا سکتی ہیں مگر لالچ و ہوس نے تمام قوانین کو پامال کرتے ہوئے اس کو ریگولائز
کر دیا جس طرح کراچی میں سینکڑوں دیگر غیر قانونی تعمیرات کو ریگولائز کیا گیا ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 2003 میں جب اس پراجیکٹ کو ریگولائز کیا گیا تھا تو کراچی
کی نظامت جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان کے پاس تھی اور آج یہی جماعت اس سانحہ پر
سیاسی پوائنٹ اسکورنگ میں سب سے آگے ہے۔ اسوقت بھی اس میں حفاظتی انتظامات کر
فراہمی کو یقینی نہیں بنانا گیا۔
بلکہ اس کے بعد بھی اس میں تبدیلیاں گئی اور کمپلیشن
پلان کے مطابق 1021 دکانوں کی تعمیر کی اجازت تھی لیکن نقشے کے برخلاف گل پلازہ
میں 1200 دکانیں تعمیر کی گئی تھیں، گل پلازہ میں 179 دکانیں منظور شدہ نقشے سے
زائد تعمیر ہوئیں جب کہ گل پلازہ میں راہداری اور باہر نکلنے کی جگہوں پر دکانیں
بنائی گئیں۔
گل پلازہ میں نقشے کے برخلاف خارجی
راستوں اور پارکنگ میں مجموعی طور پر خلاف ضابطہ 179 دکانیں بنانے کا انکشاف ہوا
ہے، امکان ہے کہ آگ لگنے پر خارجی راستوں میں بنی دکانیں بھی لوگوں کے انخلا میں
رکاوٹ بنیں۔
90 کی دہائی میں جب کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ
ریگولیشنز کا ازسر نو جائزہ لینے اور اس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا عمل
شروع ہوا تو میں اس عمل میں شروع سے آخر تک مختلف کمیٹیوں میں بطور کوراڈینٹر شامل
رہا۔ اس وقت کمیٹی کے چیئرمین مشہور انجینئر سلیم تھاریانی ( مرحوم ) نے حفاظتی
قوانین اور خاص کر آگ سے بچاؤ کے قوانین میں ترامیم کرنے میں اہم کردار ادا کیا
اور ہم نے نہ صرف مختلف پروفیشنل سے اس سلسلے میں راہنمائی حاصل کی بلکہ دیگر
ممالک کے قوانین کا جائزہ لیتے ہوئے ان حفاظتی قوانین کو ترتیب دیا تھا۔ اس سلسلے
میں جناب تھاریانی صاحب نے ایک دن اسوقت کے فائر چیف کو اپنے گھر کھانے پر مدعو
کیا تھا جس میں میں اور میرا ساتھی سید حیدر جاوید ( مرحوم ) بھی تھے ہم نے ان سے
اپنے آگ سے بچاؤ کے حفاظتی قوانین پر طویل مشاورت کی اور اسطرح سے ایک جامع
دستاویز تیار کرنے میں کامیاب ہوئے جس میں رہائشی، تجارتی، کمرشل و صنعتی پراجیکٹس
کے لیے قوانین شامل ہیں اور وہ بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز کا اہم حصہ ہیں۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کسی بھی ادارے نے ان حفاظتی
قوانین کو یقینی بنانے کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کیا اور اسطرح سے اس قسم کے
واقعات میں جانی و مالی نقصانات کا موجب بنتے ہیں۔
گل پلازہ میں آتشزدگی کی کیا وجوہات ہیں اور کیا اسباب
بنے، ان کا تو تحقیقات کے بعد پتہ چلے گا یا نہیں اس بارے میں کچھ کہا نہیں جا
سکتا مگر ایک بات یقینی ہے کہ حفاظتی قوانین پر عملدرآمد نہ ہونا ہی اس قسم کے
حادثات کو جنم دیتا ہے۔
آسمانی اسباب
زمینی اسباب سے ہٹ کر اس قسم کے معاملات کا اہم جن
آسمانی اسباب ہوتے ہیں اور جب اللہ سبحانہ و تعالٰی پر ایمان کمزور ہو جاتا ہے اور
اس کی جگہ لالچ و ہوس کا غلبہ ہو جاتا ہے تو اللہ کی طرف سے اسطرح کے چھوٹے چھوٹے
عذاب نازل ہوتے ہیں تاکہ اس سے لوگ عبرت حاصل کریں اور اپنے اعمال کو درست کرنے کی
طرف راغب ہو جائیں۔
اس سلسلے میں قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیات اور ان کی
تفسیر( ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ ) اس طرف واضح پیغام دیتی ہے:
ان آیات میں ایمان بالآخرت کے حوالے سے بہت عمدہ اور
عام فہم تمثیل کے طور پر باغ والوں کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔
آیت ۱۷ {اِنَّا بَلَوۡنٰہُمۡ
کَمَا بَلَوۡنَاۤ اَصۡحٰبَ
الۡجَنَّۃِ ۚ}
''یقینا ہم نے ان (اہل مکہ) کو اسی طرح آزمایا ہے جیسے ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا۔''
اللہ تعالیٰ لوگوں کو طرح طرح کے امتحانات سے آزماتا رہتا ہے۔ ایک انسان کو اگر دولت
کی آزمائش میں ڈالا جاتا ہے' توکسی دوسرے کو غربت کے امتحان سے دوچار کر دیا جاتا ہے۔
سورۃ الملک کی اس آیت میں تو انسان کی زندگی اور موت کی تخلیق کا مقصد ہی آزمائش بتایا
گیا ہے: {الَّذِیۡ
خَلَقَ الۡمَوۡتَ
وَ الۡحَیٰوۃَ لِیَبۡلُوَکُمۡ
اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ
عَمَلًا ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ
الۡغَفُوۡرُ
ۙ﴿۲﴾} ''اس نے موت اور زندگی
کو اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے اعمال کرنے والا
ہے۔ اور وہ بہت زبردست بھی ہے اور بہت بخشنے والا بھی ۔'' {اِذۡ
اَقۡسَمُوۡا
لَیَصۡرِمُنَّہَا مُصۡبِحِیۡنَ
﴿ۙ۱۷﴾}
''جبکہ انہوں نے قسم کھائی کہ وہ ضرور اس کا پھل اُتار لیں گے صبح سویرے۔''
آیت ۱۸ {وَ لَا یَسۡتَثۡنُوۡنَ
﴿۱۸﴾}
''اور انہوں نے (اس پر) ان شاء اللہ بھی نہ کہا۔''باغ کے پھل پک کر تیار ہو چکے
تھے ۔انہوں نے ایک رات پروگرام طے کر لیا کہ وہ صبح سویرے جائیں گے اور سارا پھل
اتار لائیں گے۔ گویا وہ اپنے اسباب و وسائل کے گھمنڈ میں مسبب ِحقیقی کو بالکل ہی
بھول گئے۔
آیت ۱۹ {فَطَافَ عَلَیۡہَا
طَآئِفٌ مِّنۡ رَّبِّکَ وَ ہُمۡ
نَآئِمُوۡنَ ﴿۱۹﴾} ''پس ایک پھرنے والا
پھر گیا اس (باغ) پر آپ کے رب کی طرف سے جبکہ وہ ابھی سوئے ہوئے ہی تھے۔''
آیت ۲۰
{فَاَصۡبَحَتۡ
کَالصَّرِیۡمِ ﴿ۙ۲۰﴾} ''تو وہ ایسے ہو گیا
جیسے کٹی ہوئی فصل ہو۔''یعنی رات کو وہ باغ کسی بگولے کی زد میں آیا اور جل کر
راکھ کا ڈھیر بن گیا۔
آیت ۲۱ {فَتَنَادَوۡا
مُصۡبِحِیۡنَ
﴿ۙ۲۱﴾}
''اب صبح ہی صبح انہوں نے ایک دوسرے کو پکارا۔''
آیت۲۲
{اَنِ اغۡدُوۡا
عَلٰی حَرۡثِکُمۡ
اِنۡ کُنۡتُمۡ
صٰرِمِیۡنَ ﴿۲۲﴾} ''کہ صبح سویرے چلو
اپنے کھیت کی طرف اگر تم پھل توڑنا چاہتے ہو۔'' وہ صبح سویرے اپنے طے شدہ پروگرام
کے مطابق پھل توڑنے کی تیاریاں کر رہے تھے 'جبکہ ان کا باغ رات کو جل کر تباہ ہو
چکا تھا ۔ اسی طرح انسان اپنی دھن میں مگن طرح طرح کے منصوبے بناتا رہتا ہے مگر
اللہ تعالیٰ کے ایک فیصلے کے سامنے اس کے سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کو کوئی جان لیوا مرض لاحق ہو چکا ہوتا ہے' مگر وہ
اس سے بے خبر اپنی لمبی لمبی امیدوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے رات دن ایک
کیے رہتا ہے ۔پھر جب مرض کی تشخیص ہوتی ہے تب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
آیت۲۳ {فَانۡطَلَقُوۡا
وَ ہُمۡ یَتَخَافَتُوۡنَ
﴿ۙ۲۳﴾}
''چنانچہ وہ چلے اور آپس میں چپکے چپکے یہ باتیں کرتے جارہے تھے۔'' آیت ۲۴ {اَنۡ
لَّا یَدۡخُلَنَّہَا الۡیَوۡمَ
عَلَیۡکُمۡ
مِّسۡکِیۡنٌ
﴿ۙ۲۴﴾}
''کہ دیکھو آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں ہرگز داخل نہ ہونے پائے۔''
دراصل انہوں نے پھل اتارنے کے لیے منہ اندھیرے
جانے کا پروگرام بنایا ہی اس لیے تھا تاکہ ایسے مواقع پر آ جانے والے غرباء و
مساکین کو چکمہ دے سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ باغ پر سارا سال محنت ہم نے کی ہے' اس
کی حفاظت کی ہے ' اب پھل اتارنے کے موقع پر ہم اس میں سے غرباء و مساکین کو کس لیے
دیں؟ وہ ہمارے کیا لگتے ہیں؟یہ تھا ان کا اصل جرم جس کی انہیں سزا ملی۔ انسان کے
کردار میں ایسی پستی آخرت پر یقین نہ ہونے کی وجہ سے آتی ہے۔
آیت ۲۵ {وَّ غَدَوۡا
عَلٰی حَرۡدٍ قٰدِرِیۡنَ
﴿۲۵﴾}
''اور وہ صبح سویرے چلے جلدی جلدی (یہ سمجھتے ہوئے ) کہ وہ اس ارادہ پر پوری طرح
قادر ہیں۔''
یہ آیت لفظی تصویر کشی کی بہترین مثال ہے۔ اس
وقت ان لوگوں کی جو ذہنی' نفسیاتی اور ظاہری کیفیت تھی ان الفاظ میں اس کی ہوبہو
تصویر کھینچ کر رکھ دی گئی ہے ۔ انہیں زعم تھا کہ انہوں نے بڑی کامیاب منصوبہ بندی
کی ہے' ابھی تھوڑی ہی دیر میں وہ پھل اتار کر لے جائیں گے اور بھیک منگوں کو کانوں
کان خبر نہیں ہو گی۔[ حَرْد کا معنی قصد اور ارادہ ہے۔ یعنی انہوں نے جو یہ ارادہ
کیا تھا کہ آج کسی غریب کو باغ میں داخل نہیں ہونے دیں گے اور صبح سویرے باغ کا
پھل اتار لیں گے' وہ خیال کر رہے تھے کہ ہم اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے کی قدرت
رکھتے ہیں۔]
آیت۲۶
{فَلَمَّا رَاَوۡہَا
قَالُوۡۤا اِنَّا لَضَآلُّوۡنَ
﴿ۙ۲۶﴾}
''پھر جب انہوں نے اس (باغ) کو دیکھا توکہنے لگے کہ ہم تو کہیں بھٹک گئے
ہیں۔''
فوری طور پر تو وہ یہی سمجھے کہ وہ اندھیرے میں
راستہ بھول کر کسی اور جگہ آ گئے ہیں اور یہ ان کا باغ نہیں ہے۔ پھر جب انہیں اصل
صورت حال کا ادراک ہوا تو کہنے لگے :
آیت ۲۷ {بَلۡ
نَحۡنُ مَحۡرُوۡمُوۡنَ
﴿۲۷﴾}
''نہیں نہیں (باغ تویہی ہے ) ہم تومحروم ہو گئے ہیں۔''ہماری تو قسمت ہی پھوٹ گئی
ہے۔
آیت ۲۸ {قَالَ اَوۡسَطُہُمۡ
اَلَمۡ اَقُلۡ
لَّکُمۡ لَوۡ
لَا تُسَبِّحُوۡنَ ﴿۲۸﴾} ''ان کے درمیان والے
نے کہا: میں تمہیں کہتا نہ تھا کہ تم (اپنے رب کی) تسبیح کیوں نہیں کرتے؟''
یہ انہی کے کسی نیک فطرت بھائی کا ذکر ہے جو
گاہے بگاہے انہیں روکتا ٹوکتا تھا اور انہیں یاد دہانی کراتا رہتاتھا کہ تم اللہ
کو بھولے ہوئے ہو اور اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے سے پہلوتہی کرتے
ہو۔
آیت۲۹
{قَالُوۡا
سُبۡحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا کُنَّا
ظٰلِمِیۡنَ ﴿۲۹﴾} ''انہوں نے کہا (واقعی
تم ٹھیک کہتے ہو) ہمارا رب پاک ہے 'بے شک ہم ہی ظالم تھے۔''
آیت ۳۰ {فَاَقۡبَلَ
بَعۡضُہُمۡ
عَلٰی بَعۡضٍ یَّتَلَاوَمُوۡنَ
﴿۳۰﴾}
''پھر وہ آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔''اب وہ اپنی گمراہی اور شومئی قسمت
کی ذمہ داری آپس میں ایک دوسرے کے سر تھوپنے لگے۔ آیت۳۱ {قَالُوۡا
یٰوَیۡلَنَاۤ اِنَّا کُنَّا
طٰغِیۡنَ ﴿۳۱﴾} ''(بالآخر اعتراف
کرتے ہوئے) وہ کہنے لگے: ہائے ہماری بدبختی ! اصل میں ہم سب ہی اپنی حدود سے تجاوز
کرنے والے تھے۔'' آیت ۳۲ {عَسٰی
رَبُّنَاۤ اَنۡ یُّبۡدِلَنَا
خَیۡرًا مِّنۡہَاۤ
اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا رٰغِبُوۡنَ
﴿۳۲﴾}
''اُمید ہے ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر عطا کر دے گا 'اب ہم اپنے رب کی طرف رجوع
کرتے ہیں ۔'' اب ہم نے توبہ کر لی ہے۔ اب ہم اپنی روش تبدیل کرلیں گے اور آئندہ
باقاعدگی سے اللہ تعالیٰ کے تمام حقوق ادا کیاکریں گے۔ ہمیں اُمید ہے ہمارا رب
ہمارے گناہوں کو معاف کرتے ہوئے ہمارے نقصان کی بھی تلافی کر دے گااور اگلے سال
ہمارا باغ اس سے بہتر پیداوار دے گا۔ رَغِبَ جب اِلٰی کے صلے کے ساتھ آتا ہے تو اس
کے معنی کسی کی طرف رغبت کرنے کے ہوتے ہیں لیکن جب یہی لفظ عَنْ کے صلے کے ساتھ
آئے تو بالکل متضاد معنی دیتا ہے ۔ چنانچہ رَغِبَ عَنْ کے معنی ہوں گے :رُخ پھیر
لینا اور پہلوتہی کرنا ۔جیسا کہ سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۳۰میں آیا ہے : {وَ مَنۡ
یَّرۡغَبُ عَنۡ
مِّلَّۃِ اِبۡرٰہٖمَ اِلَّا مَنۡ
سَفِہَ نَفۡسَہٗ ؕ
} ''اور کون ہو گا جو ابراہیم ؑ کے طریقے سے منہ موڑے؟سوائے اس کے جس نے اپنے آپ کو
حماقت ہی میں مبتلا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہو!''
اب اگلی آیت میں گویا اس تمثیل یا واقعہ کا
اخلاقی سبق (moral lesson)
بیان ہوا ہے:
آیت ۳۳
{کَذٰلِکَ الۡعَذَابُ
ؕ وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ
اَکۡبَرُ ۘ
} ''اسی طرح آتا ہے عذاب! اور آخرت کا عذاب تو یقینا بہت ہی بڑا ہے ۔''
اس واقعے میں تو دنیا کے عذاب کا ذکر ہے۔ لیکن
یاد رکھو دُنیا کے عذاب تو نسبتاًچھوٹے اور وقتی ہوتے ہیں اورتوبہ کرنے پر ٹل بھی
جاتے ہیں۔ مثلاًایک سال اگر پکی پکائی فصل برباد ہو گئی تو اللہ کی طرف رجوع کرنے
سے ہو سکتا ہے اگلے سال اس کی تلافی ہو جائے' لیکن آخرت کا معاملہ یکسر مختلف ہے۔
آخرت کا عذاب بہت بڑا ہوگا اور اس وقت پلٹنے کا راستہ اور توبہ کا دروازہ بھی بند
ہو چکا ہو گا۔{لَوۡ
کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ
﴿٪۳۳﴾}
''کاش کہ یہ لوگ (اس حقیقت کو) جانتے!''
ان آیات سے یہ بات واضح ہے کہ آسمانی اسباب کو زمینی
اسباب پر مکمل فوقیت حاصل ہے اور ہم زمینی اسباب چاہیے جتنے بھی پائیدار بنا دیں
مگر جب اللہ کے احکامات کی پامالی ہو رہی ہو تو یہ آسمانی عذاب مختلف صورتوں اور
انداز میں نازل ہوتے رہے گے تاکہ اس سے جو کوئی ہدایت حاصل کرنا چاہیے تو وہ راہ
راست پر آ جائے۔
اللہ ہم سب کو اس کے احکامات پر کلی طور پر عملدرآمد
کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین



0 Comments