تحریر: ممتاز ہاشمی
اللہ کی قدرت اور وستوں کی لامحدودیت
کی 31 آیات ان الفاظ پر مشتمل سورة الرحمن
ہیں:
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ
عمومی طور پر ان آیات کا اردو ترجمہ کچھ یوں بیان کیا
گیا ہے؛
"پس ( اے انسانو اور جنو! ) تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ "
سورة الرَّحْمٰن کی ان آیات میں لفظ آلاء استعمال ہوا
ہے ۔ اس لیے اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس لفظ میں معنی کی کتنی وسعت ہے اور
اس میں کیا کیا مفہومات شامل ہیں ۔ آلاء کے معنی اہل لغت اور اہل تفسیر نے بالعموم
’’ نعمتوں ‘‘ کے بیان کیے ہیں ۔ تمام مترجمین نے بھی یہی اس لفظ کا ترجمہ کیا ہے ۔
اور یہی معنی ابن عباس ، قتادہ اور حسن بصری سے منقول ہیں ۔ سب سے بڑی دلیل اس
معنی کے صحیح ہونے کی یہ ہے کہ خود نبی ﷺ نے جنوں کے اس قول کو نقل فرمایا ہے کہ
وہ اس آیت کو سن کر بار بار لا بشیء من نعمک ربنا نکذب کہتے تھے ۔ لہذا زمانۂ حال
کے بعض محققین کی اس رائے سے ہمیں اتفاق نہیں ہے کہ آلاء نعمتوں کے معنی میں سرے
سے استعمال ہی نہیں ہوتا ۔ دوسرے معنی اس لفظ کے قدرت اور عجائب قدرت یا کمالات
قدرت ہیں ۔ ابن جریر طبری نے ابن زید کا قول نقل کیا ہے کہ فبای الاء ربکما کے
معنی ہیں فبای قدرۃ اللہ ۔ ابن جریر نے خود بھی آیات 37 ۔ 38 کی تفسیر میں آلاء کو
قدرت کے معنی میں لیا ہے ۔ امام رازی نے بھی آیات 14 ۔ 15 ۔ 16 کی تفسیر میں لکھا
ہے ۔’’ یہ آیات بیان نعمت کے لیے نہیں بلکہ بیان قدرت کے لیے ہیں ۔‘‘ اور آیات 22
۔ 23 کی تفسیر میں وہ فرماتے ہیں ’’ یہ اللہ تعالیٰ کے عجائب قدرت کے بیان میں ہے
نہ کہ نعمتوں کے بیان میں ۔‘‘ اس کے تیسرے معنی ہیں خوبیاں ، اوصاف حمیدہ اور
کمالات و فضائل ۔ اس معنی کو اہل لغت اور اہل تفسیر نے بیان نہیں کیا ہے ، مگر
اشعار عرب میں یہ لفظ کثرت سے اس معنی میں استعمال ہوا ہے ۔
اس لیے لفظ آلاء کو اس کے وسیع معنی میں لیا جانا
چاہیے اور ہر جگہ موقع و محل کے لحاظ سے اس کے جو معنی مناسب تر نظر آئے ہیں وہی
ترجمے میں درج کر دیے ہیں ۔ لیکن بعض مقامات پر ایک ہی جگہ آلاء کے کئی مفہوم ہو
سکتے ہیں ، اور ترجمے کی مجبوریوں سے ہم کو اس کے ایک ہی معنی اختیار کرنے پڑے ہیں
، کیونکہ اردو زبان میں کوئی لفظ اتنا جامع نہیں ہے کہ وہ ان سارے مفہومات کو بیک
وقت ادا کر سکے ۔ مثلاً اس آیت میں زمین کی تخلیق اور اس میں مخلوقات کی رزق رسانی
کے بہترین انتظامات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ تم اپنے رب کے کن کن ’’
آلاء ‘‘ کو جھٹلاؤ گے ۔ اس موقع پر آلاء صرف نعمتوں کے معنی ہی میں نہیں ہے ، بلکہ
اللہ جل شانہ کی قدرت کے کمالات اور اس کی صفات حمیدہ کے معنی میں بھی ہے ۔ یہ اس
کی قدرت کا کمال ہے کہ اس نے اس کرۂ خاکی کو اس عجیب طریقے سے بنایا کہ اس میں بے
شمار اقسام کی زندہ مخلوقات رہتی ہیں اور طرح طرح کے پھل اور غلے اس کے اندر پیدا
ہوتے ہیں ۔ اور یہ اس کی صفات حمیدہ ہی ہیں کہ اس نے ان مخلوقات کو پیدا کرنے کے
ساتھ ساتھ یہاں ان کی پرورش اور رزق رسانی کا بھی انتظام کیا ، اور انتظام بھی اس
شان کا کہ ان کی خوراک میں نری غذائیت ہی نہیں ہے بلکہ لذت کام و دہن اور ذوق نظر
کی بھی ان گنت رعایتیں ہیں ۔
۔سورة الرَّحْمٰن میں جھٹلانے سے مراد وہ متعدد
رویے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی قدرت کے کرشموں اور اس کی صفات حمیدہ
کے معاملے میں لوگ اختیار کرتے ہیں ، مثلاً : بعض لوگ سرے سے یہی نہیں مانتے کہ ان
ساری چیزوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ یہ سب کچھ محض مادے کے
اتفاقی ہیجان کا نتیجہ ہے ، یا ایک حادثہ ہے جس میں کسی حکمت اور صناعی کا کوئی
دخل نہیں ۔ یہ کھلی کھلی تکذیب ہے ۔ بعض دوسرے لوگ یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ ان
چیزوں کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے مگر اس کے ساتھ دوسروں کو خدائی میں شریک ٹھہراتے
ہیں ، اس کی نعمتوں کا شکریہ دوسروں کو ادا کرتے ہیں ۔ کچھ اور لوگ ہیں جو ساری
چیزوں کا خالق اور تمام نعمتوں کا دینے والا اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے ہیں ، مگر اس
بات کو نہیں مانتے کہ انہیں اپنے خالق و پروردگار کے احکام کی اطاعت اور اس کی
ہدایات کی پیروی کرنی چاہئے ۔ یہ احسان فراموشی اور انکار نعمت کی ایک اور صورت ہے
۔ یہ تکذیب بالقول نہیں بلکہ تکذیب بالفعل ہے ۔
انسان اس دنیا میں قدرت کے کمالات کا ہر جگہ مشاہدہ
کرتا ہے باوجود اس کے اس کی قوت مشاہدہ اور علم کی گہرائی محدود ہے اور وہ اللہ
سبحانہ وتعالٰی کی قدرت و کمالات کا ایک محدود حد تک ہی اندازہ لگا سکتا ہے۔
آج کی دنیا میں ساہنسی ترقی نے اللہ کی قدرت کی وسعتوں
کو ایک حد تک دریافت بھی کر لیا ہے مگر پھر بھی اکثریت اس کی وحدانیت پر ایمان
لانے سے قاصر ہے اور زندگی بے بندگی شرمندگی کی ماند بسر کر رہے ہیں۔
جب کہ اہل ایمان جب بھی اللہ کی کسی قدرت کا مشاہدہ
کرتے ہیں تو فوراً سجدہ شکر ادا کرتے ہیں اور اس قرآنی آیت پر یقین کامل ہو جاتا
ہے:
اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ"(سورۃ
البقرۃ،آیت نمبر:20)
ترجمہ:"بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔"
اور اہل ایمان تقویت اس کی ہدایات پر مکمل طور پر عمل
پیرا ہونے کے لیے کمر بستہ ہوجاتے ہیں۔
آج کی دنیا جس تیزی سے اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے تو
اس وقت ان ساہنسی ایجادات نے دنیا کو سکیڑ کر رکھ دیا ہے اور فاصلوں کی دوریاں ان
ایجادات کی وجہ سے ختم ہوتی جا رہی ہیں۔
دراصل یہ حالات و واقعات اس بات کی بھی نشاندہی کرتے
ہیں کہ قیامت سے قبل تمام انسانوں تک اللہ سبحانہ و تعالٰی کے پیغام ہدایت یعنی
قرآن مجید کو پہنچانے کا جو وعدہ پیغمبر آخرالزماں محمد صلی علیہ وسلم نے تمام
مسلمانوں سے خطبہ حجتہ الودع سے لیا تھا اور جس کے لیے ہر دور میں اہل ایمان سرگرم
رہے اور ہیں وہ ان ایجادات کے ذریعے دنیا کے ہر کونے میں گھر گھر پہنچ چکا ہے۔ اور
اب کوئی یہ عذر پیش نہیں کر سکتا کہ اس کو ہدایت کا پیغام نہیں ملا۔ ظاہر ہے آج ہر
ایک کی دسترس میں اس کی اپنی زبان میں بھی اللہ سبحانہ و تعالٰی کی ہدایات یعنی
قرآن مجید، اور اس کی تفاسیر موجود ہیں۔
مگر جیسا کہ اللہ تعالٰی نے سورہ البقرہ میں ارشاد
فرمایا ہے کہ یہی کتاب ہدایت ہے اور اس سے ہدایت متقی ہی لے سکتے ہیں اور کیونکہ
خالق دلوں کے حال جانتا ہے اسلئے ہدایت کا حقدار وہی سمجھا جاتا ہے جس میں اس کے
لیے خواہش موجود ہو۔ اور بقایا تمام انسان خسارے والوں میں ہی ہوں گے جس کی تفصیل
سورہ العصر میں بیان کی گئی ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالٰی کی قدرت کی وسعتوں کا اندازہ مجھے
گزشتہ دنوں ایک مرتبہ پھر اسوقت ہوا، جب میری زندگی میں ایک ناقابل یقین واقعہ پیش
آیا۔
میں اپنے بچپن کے اسکول کے دوستوں اور محلے داروں کو
ہمیشہ یاد کرتا تھا جو میرے ساتھ کرشن نگر لاہور کے اسکول مدرستہ لیاقت البنات میں
پانچویں جماعت تک پڑھتے تھے اور دیگر ہمارےمحلے میں رہتے تھے یہ بچپن کا وقت بہت
ہی یادگار دور تھا اس کی یادیں ہمیشہ ذہن کے کسی گوشے میں محفوظ تھیں اور وقتاً
فوقتاً دل میں ان لمحات میں گزرے وقت کے ساتھیوں سے ملنے کی امنگ پیدا ہوتی تھی۔
71 میں ہمارے کراچی منتقل ہو جانے کے بعد یہاں
رابطے مکمل طور پر ختم ہو گئے اور زندگی کی مصروفیات میں لاہور جسنے کا موقع نہ
ملا مگر دل میں ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ کاش ان سے ملاقات ہو جائے۔ اس کے بعد میرے
کینیڈا منتقل ہونے کے بعد تو کوئی امید باقی نہیں رہی تھی۔
گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر اچانک ایک صاحب سے رابطہ ہوا
جو کرشن نگر لاہور کے رہائشی تھے اور میرے ہم عمر ہیں انہیں نے کرشن نگر لاہور کی
تاریخ پر کچھ مضامین لکھے تھے اور وہ ایک مشہور شاعر بھی ہیں۔ میں نے ان سے رابطہ
کیا اور ان سے اپنے اسکول کے دوستوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا وہ ضرور
معلوم کر کے بتائیں گے اور یہ بھی بتایا کہ وہ ہمارے ہی اسکول کی ایک دوسری شاخ
میں اسوقت زیر تعلیم تھے اور ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند حافظ عاکف
ان کے کلاس فیلو تھے۔ اس پر بڑی خوشی ہوئی اور ایک امید پیدا ہوہی کہ اپنے پرانے
دوستوں سے رابطے کا کوئی راستہ نکل آئے۔
اس دوران نواب عالم صاحب نے اپنے تبصرے میں میرے اسکول
کا ذکر کیا۔ میں نے فوری طور پر ان سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ اس اسکول میں
مجھ سے ایک سال سینئر تھے۔ ہمارے اسکول کی منتظم باجی دلدار ان کی پھوپھی تھیں۔
میں نے جب اپنے کلام فیلوز کے نام بتاے تو وہ ان
میں سے اکثر کو جانتے تھے اسطرح سے ان سے مجھے اپنے چند کلاس فیلوز کے نمبرز مل
گئے۔ بلکہ انہوں نے کرشن نگر لاہور کا ایک گروپ بھی بنایا ہوا تھا جس میں مجھے
شامل کر لیا۔
یہ اللہ سبحانہ و تعالٰی کی قدرت کا ایک ایسا ناقابل
یقین واقعہ ہے جو میرے ایمان کو مستحکم کرنے کا ذریعہ بن گیا۔
جب میری ان دوستوں سے بات ہوئی تو وہ بھی حیران ہوے اور
بتایا کہ وہ بھی ہمیشہ میرے سے رابطہ کرنے کی خواہش رکھتے تھے جو آج اللہ سبحانہ و
تعالٰی نے اپنی قدرت سے پوری کر دی۔
اب تک میری تقریباً تمام کلام فیلوز سے رابطہ ہو چکا ہے
ماسوائے دو کے جن کی تلاش جاری ہے۔ سید قرب مجتبی، سید مدثر نقوی، سجاد زیدی،
ناصر، عرفان، سہیل، امتیاز سے اب اکثر بات ہوتی ہے اور پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے
ایک عجیب سا لطف محسوس ہوتا ہے۔
اب نہ صرف ان سے رابطہ ہو گیا ہے بلکہ ہماری دو ٹیچرز
اور چند کرشن نگر لاہور کے محلے داروں سے بھی رابطہ قائم ہو گیا ہے۔ ہمارے سب سے
عزیز اور قریبی ہمسائے آغا یعقوب صاحب کے بیٹے سآغا عارف اور میرے بڑے بھائی کے
دوست ندیم اکبر ڈار سے بھی رابطہ قائم ہو گیا جو ایک انتہائی خوشی کا باعث ہے میں
بڑی گرمجوشی اور جذبات سے بھرپور انداز میں ان واقعات کا ذکر اپنی فیملی، بہن
بھائیوں، عزیز و اقارب سے کرتا ہوں اور وہ سب بھی اللہ کی قدرت کی وسعتوں کا
اندازہ لگاتے ہیں۔
ہر روز پرانے زمانے کے واقعات کو یاد کرتے ہیں اور ایک
ایسی خوشی محسوس ہوتی ہے جو کی ناقابل بیان ہے۔
ایک حیرت انگیز بات اسوقت دیکھنے کو ملی جب میں نے گروپ
میں اس بات کا ذکر کیا کہ کسی کو سحری میں جگانے والے باپ بیٹا یاد ہیں جو ایک
کلام " صابر مانے نہ مانے " پڑھتے تھے دف اور سارنگی کے ساتھ۔ تو فوراً
ایک صاحب نے جو آجکل امریکہ میں مقیم ہیں اس کی وڈیو پوسٹ کر دی۔ جس میں ایک بزرگ
دف کے ساتھ اسی انداز میں وہ کلام پڑھ رہے تھے۔ اس کو دیکھ کر آنکھوں میں آنسو بھر
آئے اور کئی کئی مرتبہ اس کو سنا اور اپنے بچپن کے دور میں پہنچ گیا۔ ہمارے بچپن
میں یہ باپ بیٹا سحری و افطار میں کرشن نگر اور دیگر ملحقہ علاقوں میں جاتے تھے
اور اس کلام سے لوگوں کو محظوظ کرتے تھے اس کلام میں ایسی کشش تھی کہ ہم ان کے
ساتھ ساتھ کچھ دیر تک چلتے رہتے اور یہ سنتے تھے۔ اسوقت باپ درمیانی عمر اور بیٹا
نوجوان تھا اب باپ اس دنیا میں نہیں ہیں اور بیٹا عمر رسیدہ ہے اور اب بھی وہ
اکیلا دف کے ساتھ یہ کلام پڑھتا ہے۔ مگر اس کی تاثیر میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی
بلکہ اب پہلے سے زیادہ سرور محسوس ہوا۔
اپنے دوستوں سے بات کرنے پر معلوم ہوا کہ نواب عالم
کراچی میں ناظم آباد کے اسی علاقے میں رہائش پذیر تھے جہاں پر ہم رہتے تھے مگر
کبھی ملاقات کا موقع نہیں ملا اور ان کے چھوٹے چھوٹے انتخاب عالم میرے ہی ڈپارٹمنٹ
میں جاب کرتے تھے مگر کبھی ملنے کا موقع نہ ملا۔
اگرچہ میرے کلام فیلوز مدثر اور سجاد سے ایک مرتبہ
دوران تعلیم ملاقات ہوئی مگر اسوقت ٹیلیفون بھی نہیں تھا اسلئے بعد میں کبھی رابطہ
نہ ہوسکا بلکہ سجاد رو اسی وقت سے کراچی میں مقیم ہیں مگر کبھی دوبارہ ملاقات نہ
ہوئی۔
میری ٹیچر جو کراچی منتقل ہو گئیں تھیں انہوں نے بتایا
کہ وہ میرے ہی اسکول میں جاب کے لیے منتخب ہوئی تھیں مگر تنخواہ پر اتفاق نہ ہونے
کی وجہ سے انہوں نے میرے اسکول میں ٹیچر کی جاب نہیں کی۔
ان واقعات سے اس بات کی بھی تصدیق ہو جاتی ہے کہ اللہ
سبحانہ و تعالٰی نے ہر کام کا ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس کا علم ہم میں سے کسی کو
بھی نہیں ہے۔ اور شاید اس تاخیر کا سبب اللہ کا اپنے بندوں کے صبر کو آزمانا اور
اس کی تکمیل پر سجدہ شکر بجا لانے کو پرکھنا ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالٰی کی اس کرم نوازی اور اس کی قدرت
کی وسعتوں پر شکر ادا کرنے کا یہ موقع اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم اللہ اور اس کے
رسول کی اطاعت کو بجا لانے کا عزم کریں اور اس کا واحد راستہ اللہ کے دین اسلام کے
قیام کے لئے اپنی صلاحیتوں اور وسائل کو مختص کر دیں تاکہ روز قیامت خسارے سے بچنے
والوں میں شامل ہونے کی توقع کر سکیں۔
اللہ ہم کو اس راہ پر گامزن ہونے کی توفیق عطا
فرمائے۔آمین
( اس مضمون کی تیاری میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی
کتاب تفہیم القرآن سے مدد لی گئی ہے۔)
0 Comments