ماضی کے جرکھوں سے- 3 سال قبل لکھا گیا مضمون
فروری 8، 2023
تحریر: ممتاز ہاشمی
سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلانے کا گناہ اور حقائق کا
جائزہ
آج جب انسان ٹیکنالوجی کی دنیا میں عروج حاصل کر چکا ہے
تو اس کے مثبت نتائج کے ساتھ ساتھ اس کے منفی اثرات زیادہ واضح طور پر محسوس ہو
رہے ہیں اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر ہر قسم کے جھوٹ کو فروغ دیا جا رہا ہے اور اس
کی روک تھام کیلئے کوئی ذریعہ موجود نہیں ہے
ہر شخص اپنے ذاتی مفادات اور نظریہ کے تحفظ کے لیے سوشل
میڈیا پر کسی قسم کے جھوٹ کو فروغ دینے میں کوئی خوف محسوس نہیں کرتا۔ مگر اس سے
بڑھ کر وہ مجرم قرار پائیں گے جو اس جھوٹ کو بلا تحقیق کے آگے بڑھانے کا کام
سرانجام دیتے ہیں۔
اس جھوٹ اور اس کو پھیلانے سے روکنے کے لیے اللہ کے
واضح احکامات قرآن مجید میں یوں بیان کیے گئے ہیں:
{ إِنَّمَا يَفۡتَرِي
ٱلۡكَذِبَ
ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ
بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِۖ
وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡكَٰذِبُونَ
}
[Surah An-Nahl: 105]
Muhammad
Junagarhi:
"جھوٹ افترا تو وہی باندھتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ
کی آیتوں پر ایمان نہیں ہوتا۔ یہی لوگ جھوٹے ہیں."
{ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ
ءَامَنُوٓاْ إِن جَآءَكُمۡ
فَاسِقُۢ بِنَبَإٖ فَتَبَيَّنُوٓاْ
أَن تُصِيبُواْ قَوۡمَۢا
بِجَهَٰلَةٖ فَتُصۡبِحُواْ
عَلَىٰ مَا فَعَلۡتُمۡ
نَٰدِمِينَ }
[Surah Al-Hujurât: 6]
Muhammad
Junagarhi:
"اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس
کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو
پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ."
حدیث میں یوں بیان کیا گیا ہے:
"آپ ﷺ نے فرمایا ” منافق کی تین نشانیاں ہیں جب
بات کہے تو جھوٹ کہے اور جب اس کے پاس امانت رکھیں تو خیانت کرے اور جب وعدہ کرے
تو خلاف کرے ۔“
Sahih
Bukhari#2749
کتاب وصیتوں کے مسائل کا بیان۔
ان تمام احکامات سے جھوٹ بولنے اور اس کو پھیلانے والوں
کو انتباہ واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔
مگر انتہائی شرمناک اور بددیانتی سے آجکل سوشل میڈیا پر
ڈکٹیٹر، اللہ اور اس کے رسول کے باغی مشرف کے بارے میں جھوٹ پھیلانے کا گناہ کیا
جا رہا ہے اور اس کو پھیلانے میں تعصب، عصبیت، ذہنی پسماندگی اور ذاتی مفادات کے
عناصر کا غلبہ نظر آتا ہے۔
اگرچہ ڈکٹیٹر مشرف اپنے آخری انجام کی جانب گامزن ہے
اور اس کے اللہ اور اس کے دین سے بغاوت کے اقدامات پر پہلے ہی لکھ چکا ہوں۔ آج صرف
ان جھوٹوں کی نشاندہی کرنا ضروری ہے جو اس نے پاکستان کے آئین اور قوانین کے
برخلاف کئے اور اس کے خلاف ان اقدامات پر کیوں اور کیسے کارروائی عمل میں آئی۔
پہلا جھوٹ جو پھیلایا جا رہا ہے اس میں صرف مشرف پر
غداری کے الزام پر مقدمہ چلایا گیا اور دوسرے ڈکٹیٹروں کو اس سے میرا قرار دے دیا
گیا تھا یہ حقیقت کے بالکل برعکس اور آئین، قانون اور تاریخ سے ناواقفیت کا نتیجہ
ہے۔ اس بات کو ہر ذی شعور انسان جانتا ہے کہ پاکستان کا آئین جو 1973 میں تشکیل
دیا گیا تھا اور نافذالعمل ہوا اس میں آرٹیکل 6 کے تحت اس کو غداری قرار دیا گیا
تھا اور اس کا نفاذ ڈکٹیٹر ایوب اور یحی پر نہیں ہو سکتا تھا اس کا نفاذ اس آئین
کے بننے کے بعد والے ڈکٹیٹروں پر ہی نافذالعمل ہے اس کا پہلا شکار ڈکٹیٹر ضیاء
الحق تھا جب اس نے 1977 میں آئین کے خلاف ملک میں مارشل لا لگایا۔ اپنے اس غیر
آئینی اقدام کو اس نے عدلیہ سے تو تحفظ حاصل کر لیا تھا مگر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو
معلوم تھا کہ عدلیہ سے تحفظ کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے اور جب بھی جمہوریت بحال
ہو گی اس کو غداری کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا اس سے بچنے کے لیے اس نے غیر
جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائے اور آخرکار پارلیمنٹ سے آئینی ترمیم کرا کر اپنے
غیر آئینی اقدام کو آئینی تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب ہو گیا اسلئے ضیاء الحق پر
آئینی غداری کا مقدمہ دائر نہیں ہو سکتا۔
دوسرا آئینی غداری کا مرتکب 1999 میں مشرف ہوا جب اس نے
ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے سہارے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قابض ہو گیا۔ اس
نے بھی اپنے اس غیر آئینی اقدام کو عدلیہ سے تحفظ حاصل کر لیا مگر چونکہ سب جانتے
تھے کہ عدلیہ کو اس بات کا اختیار ہی حاصل نہیں ہے کہ وہ اس غیر آئینی اقدام کو
تحفظ فراہم کر سکے کیونکہ سپریم کورٹ کا وجود ہی اس آئین کے تابع ہے اور اگر آئین
کو معطل کردیا جائے تو سپریم کورٹ کا اپنا وجود ختم ہو جاتا ہے تاوقتیکہ وہ اس
اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے آئین، حکومت اور پارلیمنٹ کو بحال کر دے۔ ضیاء
الحق کی طرح مشرف نے بھی اپنے اپ کو غداری کے مقدمے سے بچانے کیلئے اپنی مرضی کے
انتخابات کرائے۔ جس سے پہلے ہوم ورک کرتے ہوئے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ میں توڑ
پھوڑ کرائی گئی جس کے لئے نیب کے ادارے کو متحرک کیا گیا اور مسلم لیگ قاف قائم کی
گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اپنی پروردہ جماعتوں جماعت اسلامی
اور ایم کیو ایم کو استعمال کیا جماعت اسلامی کو کراچی کی نظامت اور کراچی سے قومی
اسمبلی کی سیٹیں دلوانے کے لیے ایم کیو ایم سے ان انتخابات کا بائیکاٹ کرایا گیا۔
اسطرح سے مشرف پارلیمنٹ سے اپنے غیر آئینی اقدام کو تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب ہو
گیا اگرچہ اسوقت پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن نے اس کے خلاف اپنی آئینی جدوجہد کی۔
مگر عددی اکثریت کی بناء پر ڈکٹیٹر مشرف اپنے آپ کو غداری کے مقدمے سے تحفظ حاصل
کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ بلکہ اپنے آپ کو وردی میں صدر منتخب کرانے کی بھی منظوری
حاصل کر لی۔
اس کے بعد 2007 میں جب عدلیہ بحالی تحریک نے زور پکڑا
تو مشرف نے دوبارہ نومبر 2007 میں بحیثیت آرمی چیف آہین کو معطل کرنے کا قدم
اٹھایا جس کو فوری طور پر سپریم کورٹ نے غیر آئینی قرار دے دیا۔ اس صورتحال میں
ڈکٹیٹر مشرف نے ججز کو قید کر دیا اور اپنے نئے حکم نامہ کے تحت نہیں ججز کو فائز
کر دیا۔ اس پر ملک بھر میں شدید ردعمل ظاہر ہوا اور دنیا بھر سے پاکستان میں
جمہوریت کی بحالی کیلئے زور دیا جانے لگا اور ڈکٹیٹر مشرف کو مجبوراً جلاوطن بے
نظیر بھٹو اور نواز شریف کو ملک میں واپس آنے پر قائل اور نئے انتخابات کے انعقاد کا
اعلان کرنا پڑا۔
اس جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد میں بینظیر بھٹو نے اپنی
جان کی قربانی بھی دہی اور تاریخ میں ایک اہم مقام حاصل کر لیا۔ نئی منتخب
پارلیمنٹ نے ڈکٹیٹر مشرف کو صدر کے عہدے سے استفی دینے پر مجبور کر دیا کیونکہ
پارلیمنٹ میں اس کے خلاف مواخذہ کی کارروائی شروع ہونے جا رہی تھی۔
ان حالات میں جب مشرف کے اس غیر آئینی اقدام کو کوئی
تحفظ فراہم نہیں کیا گیا اور عدلیہ نے اس پر غداری کا مقدمہ قائم کرنے کی ہدایات
جاری کی اور منتخب حکومت نے اس پر عملدرآمد کیا۔
یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اس
مقدمے کو روکنے کی بھرپور کوششیں کیں اور جب نواز شریف نے آئین کی بالادستی کے عزم
کے ساتھ اس مقدمے کو سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق آگے بڑھانے کا عمل شروع کیا تو
ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے سازشیں شروع کر دی اور
ان سازشوں میں عمران خان کو بنیادی کردار سونپا گیا۔
ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے کورٹ کے حکم کے برخلاف ڈکٹیٹر مشرف
کو غیر قانونی طور ملک سے فرار کرایا تاکہ وہ ممکنہ سزا سے بچتا رہے۔
اس مقدمے کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ نے آہین کے تحت
ایک اسپشل کورٹ تشکیل دیا اور اس کورٹ نے آخرکار اکثریتی فیصلے کے مطابق ڈکٹیٹر
مشرف کو آہین سے غداری کے الزام میں مجرم قرار دیتے ہوئے پھانسی کی سزا سنائی۔
اس سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کا حق حاصل ہے اور
ڈکٹیٹر مشرف نے یہ حق استعمال کرتے ہوئے ریویو کی درخواست دائر کر رکھی ہے مگر ایک
عرصے گزرنے کے بعد بھی آجتک اس درخواست کو سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا گیا ہے جو
کہ ظاہری طور پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ کا نتیجہ ہے کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ
اس مقدمے میں عدلیہ ڈکٹیٹر مشرف کے اقدام کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے اور اس
ریویو درخواست میں کوئی ریلیف ملنے کی امید نہیں تھی۔
ایک دوسرا جھوٹ جو پھیلایا جا رہا ہے کہ اس کے فیصلے
میں ڈکٹیٹر مشرف کو مرنے کے بعد بھی لاش کو لٹکانے کا حکم ہے جو قوانین کے برخلاف
ہے اس سلسلے میں انہوں نے کورٹ کے فیصلے کو پڑھنے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کی۔ ان
اضافی نوٹس اور اقلیتی رائے کو فیصلے کا حصہ نہیں بنایا گیا ہے اور یہ اس فیصلے کے
عملدرآمد کا حصہ نہیں ہے ۔
ہماری عدلیہ کے گھناؤنے کرداروں نے ملک کو اس حالت میں
پہنچانے میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ برابر کی شریک ہے اب امید پیدا ہو چکی
ہے کہ آئندہ چند ماہ میں جب پاکستان کے انتہائی ایماندار اور قانون کی بالادستی
قائم کرنے والے جج قاضی فائز عیسیٰ جب چیف جسٹس سپریم کورٹ کا چارج سنبھالے گئے تو
عدلیہ کو اس کے حقیقی کردار میں بحال کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ہم سب کو ان کی
کامیابی کے لیے دعا گو ہونا چاہیے۔
تحریر:
ممتاز ہاشمی

0 Comments