یکم مئی کو دنیا بھر میں محنت کشوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے جو کہ ان محنت کشوں کی قربانیوں اور جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ہوتا ہے جنہوں نے حالیہ تاریخ میں استحصالی سرمایہ دارنہ نظام کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا اس جدید استحصالی نظام کی بنیاد دنیا میں صنعتی ترقی و اجارہ دارانہ معیشت کے ارتقاء کا نتیجہ تھا جو مکمل طور پر سور پر مبنی شرک کی بنیاد پر قائم ہے۔ امریکہ کے شہر شکاگو میں شروع ہونے والی اس مزدور تحریک نے جو محنت کشوں کو غلامی سے نجات دلانے کے لئے شروع ہوئی تھی اور اس میں محنت کشوں نے جانوں کی قربانیاں دیں اور اس کے نتیجے کے طور پر مروجہ سرمایہ دارانہ نظام میں محنت کشوں کو محنت کشوں کو کچھ حقوق بھی حاصل ہوے۔
لیکن یہ ان کی محنت کے مقابلے میں نہ صرف ناکافی ہیں
بلکہ یہ مکمل طور پر نظام عدل کے منافی ہیں آج پوری دنیا میں محنت کشوں کی اکثریت
انتہائی پستی اور ذلت کی زندگی گزار رہی ہے اور اس استحصالی معاشی نظام نے لوگوں
کو اکثریت کو غلامی اور پسماندگی میں مبتلا کر رکھا ہے
اج دنیا کے کسی کونے میں بھی عدل پر مبنی نظام نافذ
نہیں ہے۔
خالق کائنات نے انسانوں کو استحصالی نظام سے بچانے
اورعدل پر مبنی زندگی گزارنے کے لیے دین اسلام کا انتخاب کیا ہے۔ یہ وہ واحد نظام
حیات ہے جو انسان کو انسان کی غلامی سے نجات دلانے اور صرف اللہ کی بندگی اختیار
کرنے کا اہتمام کرتا ہے۔ اسی لیے خخالق کائنات نے انسان کی تخلیق کا واحد مقصد ہی
اللہ کی بندگی اختیار کرنے کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔
آج دنیا میں رائج معاشی نظام نے پوری انسانیت کو ایک
بحران میں مبتلا کر رکھا ہے۔
آج پوری دنیا معاشی بحران کا شکار ہے اور مہنگائی کی
شرح میں تاریخی اضافہ دیکھا جارہا ہے اس کا آغاز کرونا کی وبا سے ہوا جب دنیا اس
کا اندازہ لگانے میں ناکام رہی اور پوری دنیا کافی حد تک بند ہوگئی اس پیداواری
عمل کی بندش اور سپلائی لائن میں رکاوٹیں نے ہر قسم کی اشیاء میں قلت پیدا کی۔ جس
سے تمام اشیاء کی قیمتوں میں خاطرخواہ اضافہ ہوا اور اکثر اوقات اشیاء کی قلت
دیکھنے میں آئی۔ اس کے بعد حالیہ ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت نے دنیا کو
ایک بہت بڑے معاشی بحران میں مبتلا کر رکھا ہے۔ دنیا بھر میں سپلائی لائن شدید
متاثر ہو رہی ہے اور پوری دنیا کو ایک سنگین معاشی بحران کا سامنا ہے جو مہنگائی
کی صورت میں دنیا کی اکثریت کو متاثر کر رہا ہے جبکہ اس کے برعکس معیشت پر قابض
استحصالی طبقات اس بحران سے خوب فائدہ آٹھاتے ہوے اپنی دولت میں بے پناہ اضافہ کر
رہے ہیں۔
آج دنیا میں آج صرف ایک ہی معاشی نظام نافذ ہے جو بین
الاقوامی سرمایہ دارنہ نظام پر مبنی ہے جس کا منبع سودی معیشت ہے یہ انسانی
استحصال کی بدترین صورت ہے۔ اس کا بنیادی مقصد انسان کو کچھ آزادی اور سہولیات کی
فراہمی کے بدلے ان کو ہمیشہ کے لیے اس نظام کی غلامی میں قید کر دینا ہے اور دوسری
طرف یہ ترقی پذیر ممالک کو ترقی یافتہ ممالک کی اقتصادی غلامی میں جکڑنا ہے۔
اس سودی نظام معیشت انسان میں ہوس، لالچ کو فروغ دینا
کی بنیاد رکھتا ہے اور اس نظام کا نتیجہ پوری دنیا میں شدید معاشی ناہمواری کی شکل
میں موجود ہے۔ جو کہ دنیا میں طبقاتی تقسیم میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے اور
معاشرہ فساد فی الارض کی شکل اختیار کر رہا ہے۔
اس نظام کے استحصااستحصالی انداز کا اندازہ اس بات سے
بھی لگایا جا سکتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں جب کہ امریکہ و کینیڈا سمیت وہ ممالک
جو پٹرولیم ممصنوعات کی پیداوار میں خود مختار ہیں اور موجودہ جنگی صورتحال میں ان
کی سپلائی لائن کو کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہے وہاں پر بھی پٹرولیم
ممصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے جو کہ سرمایہ دارنہ نظام کے لالچ
و ہوس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے اور یہ کمپنیاں راتوں رات کھربوں ڈالرز ناجائز طور پر
عوام سے وصول کر چکی ہیں۔ کیونکہ مروجہ سرمایہ دارنہ معیشت میں ریاست ان ملٹی
نیشنل کمپنیوں کو ناجائز منافع خوری کی پشت پناہی کرتے ہوئے ان کے مفادات کے تحفظ
یقینی بناتی ہے۔
اس معاشی بحران کے باوجود ملٹی نیشنل کمپنیوں کے
منافع میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے۔
اس کے برعکس دین اسلام انسان کو اپنے وسائل ضرورت مندوں
کے لیے وقف کرنے کا محرک بنتا ہے جس کی ایک مثال حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا
کردار ہے۔ حضرت عثمان غنیؓ کی زندگی میں ایسے کئی واقعات ملتے ہیں -جب آپؓ نے غربا
کی خدمت کو مالی منفعت پر تر جیح دی-حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت میں سخت قحط
پڑا -انہی دنوں اُونٹوں کا قافلہ (جو40 اُونٹوں پر مشتمل تھا) حضرت عثمان غنیؓ کا
غلہ لے کر باہر سے آیا -امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ نے معمولی قیمت پر غربا
کیلیے خریدنا چاہا لیکن حضرت عثمان غنی نے فروخت کرنے سے انکار کر دیا-مدینہ کے
تاجروں نے کئی گنا نفع کی پیش کش کی لیکن آپؓ نے وہ بھی ٹھکرا دی اور فرمایا: میں
کم از کم دس گنا منافع لینا چاہتا ہوں-جب قافلہ مدینہ پہنچا تو اعلان فرمایا جس کو
غلہ کی ضرورت ہوآکر مفت لے جائے-پھر جب حضرت عمر فاروق ؓ سے ملے تو کہنے لگے آپؓ
اور تاجر مجھے غلے کی بہت تھوڑی قیمت دے رہے تھے مگر میں نے اپنا غلہ خداوند
تعالیٰ کی بارگاہ میں بہت زیادہ قیمت پر بیچا ہے۔
دین اسلام کے اقتصادی نظام میں ہر انسان کی
بنیادی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کی ذمہ داری ریاست ( خلافت) پر ہے اس میں
دنیاوی وسائل اور ذرائع کی منصفانہ و عادلانہ تقسیم کو یقینی بنایا گیا ہے ۔ اس کے
علاوہ یہ تمام انسانیت کو اس بات پر قائل کرتا ہے کہ اس کے پاس جو وسائل اور دولت
حلال ذرائع سے حاصل کی گئی ہے وہ اس کے پاس اللہ کی امانت ہے اور اسمیں اس کا حق
صرف اس کی ضروریات تک محدود ہے اور بقیہ دوسروں کی امانتیں ہیں جن کو ان حق داروں
تک پہنچانے کا اہتمام کرنا ہر اہل ایمان پر لازم ہے اپنی جاہز ضروریات کا تعین کرنا
اللہ نے انفرادی طور ہر ایک کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے اس کا ایک پیمانہ البتہ
ضرور فراہم کیا ہے کہ جس شخص کا ایمان مضبوطی کی جانب گامزن ہو گا اسی طرح اس کی
جائز ضروریات کا پیمانہ کم ہونا شروع ہو جائے گا۔
آج کی دنیا میں اس منصفانہ اور عدل پر مبنی اقتصادی
نظام کا تصور ہی محال ہے کیونکہ اس کا کوئی نمونہ اس دنیا میں موجود نہیں ہے۔
اس نظام کی بنیاد سود سے پاک معیشت پر ہے اور سود کو سب
سے بڑا گناہ شمار کیا گیا ہے اور اس کو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا درجہ دیا
گیا ہے۔
اس نظام کی بنیاد آزادی اور مساوات کے امتزاج کو یکجا
کر کے اسے عدل کا ایک ایسا نمونہ پیش کیا گیا ہے جس تصور بھی آج کے اس استحصالی
نظام معیشت کرنا محال ہے۔ اس میں سرمایہ کاری کے مقابلے میں انسانی محنت کو فوقیت
دی گئی ہے۔ دوسرے اس میں انفرادی اور نجی ملکیت کی اگرچہ اجازت دی گئی ہے مگر اس
کے ساتھ ساتھ ذرائع پیداوار میں سرمایہ کی اجارہ داری ختم کرنے پر زور دیا گیا ہے
اور تمام قدرتی وسائل میں ریاست کی بالادستی قائم کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے تاکہ
عوام کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس نظام معیشت کو مروجہ سرمایہ دارنہ
نظام کے مد مقابل " کنٹرولڈ کیپٹل ازم/ روحانی سوشلزم " کا نام دیا جا
سکتا ہے۔
دین اسلام میں خلافت ( ریاست ) کو عوام کی تمام بنیادی
سہولیات کی فراہمی کے لیے انتہائی منصفانہ زکوۃ اور عشر کا نظام ترتیب دیا گیا ہے
اس کے علاوہ ریاست کو ناگہانی صورتحال میں مزید ٹیکس کا اختیار دیا گیا ہے جس سے
تمام انسانوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنانے کا اہتمام کیا جا سکے۔
دین اسلام کے اس معاشی نظام کی اساسی بنیاد قرآن مجید
کی مندرجہ ذیل آیات کوکہا جا سکتا ہے :
۔ کائنات کا مالک صرف اللہ ہے۔1
’’جو کچھ آسمانوں
میں اور زمین میں ہے سب اﷲ کے لئے ہے۔‘‘
سورہ البقرة، آیت 284
2۔ خالق کائنات، رازقِ کائنات بھی وہی ہے جو تمام
مخلوقات کو رزق دیتا ہے، قرآن پاک میں ارشاد ہے :
’’اور زمین میں کوئی
چلنے پھرنے والا (جاندار) نہیں ہے مگر (یہ کہ) اس کا رزق اﷲ (کے ذمۂ کرم) پر ہے۔‘‘
سورہ هود، آیت 6
3۔ اسلام کا معاشی نظام انفرادی حق ملکیت
تسلیم کرتا ہے۔ اس میں کچھ حدود و قیود لگائی گئی ہیں لیکن انسان کو اس کے حق سے
محروم نہیں کیا گیا۔ قرآن پاک میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے :
’’اے ایمان والو! ان
پاکیزہ کمائیوں میں سے اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا ہے (اﷲ کی
راہ میں) خرچ کیا کرو۔‘‘
سورہ البقرة، آیت 267
4۔ اسلام حق معیشت میں مساوات کا قائل ہے۔
اسباب معیشت میں ہر انسان کو فائدہ اٹھانے کا مساوی حق فراہم کرتا ہے۔ قرآن حکیم
میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’اور بیشک ہم نے تم
کو زمین میں تمکّن و تصرّف عطا کیا اور ہم نے اس میں تمہارے لئے اسبابِ معیشت پیدا
کئے، تم بہت ہی کم شکر بجا لاتے ہوo‘‘
سورہ الاعراف، آیت 10
5۔ جس طرح اسلام حقِ معیشت میں مساوات کا
داعی ہے اور ہر انسان کو اﷲ تعالیٰ کے فراہم کردہ اسبابِ معشیت سے فائدہ اٹھانے کا
حق دیتا ہے۔ اسی طرح حالات کو سامنے رکھتے ہوئے درجاتِ معیشت میں تفاوت کی نشاندہی
کرتا ہے۔ یعنی اسلام میں معاشی مساوات کا مفہوم یہ ہے کہ ہر ذی روح کو دنیا میں
رہنے کا حق حاصل ہو، محنت اور ترقی کے راستے سب کے لئے ہوں اور وہ معیشت میں اپنا
کردار ادا کر سکے۔ اس کا فیصلہ اس کی محنت، قابلیت اور کام کرنے کی صلاحیت پر رکھا
گیا ہے جتنا وہ کام کرے گا۔ اسی حساب سے معیشت میں اس کا درجہ ہوگا۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا
ہے۔
’’اور اللہ نے تم
میں سے بعض کو بعض پر رزق (کے درجات) میں فضیلت دی ہے (تاکہ وہ تمہیں حکمِ انفاق
کے ذریعے آزمائے)۔‘‘
سورہ النحل، آیت 71
اللہ نے اس معاشی نظام کے ذریعے انسان میں تقویٰ،
احسان، ایثار، عدل، اخوت، تعاون، توکل، قناعت ، مساوات سادگی، انکساری اور ہمدردی
کو فروغ دینے کا اہتمام کیا ہے ان تمام چیزوں پر پابندی عائد کرنے کا اہتمام کیا
جاتا ہے جس سے معاشرے میں بے حیائی، عیاشیوں اور فضول خرچیوں اور دکھاوے کے فروغ
کا باعث بنیں ان انتظامات سے معاشرے میں ہم آہنگی اور یکجہتی کو فروغ ملتا ہے۔ اور
ضرورت مندوں کے حقوق کی ادائیگی پر زور دیتا ہے قرآن حکیم میں اس کو اسطرح سے
بیان کیا گیا ہے:
"اور رشتے داروں کا اور مسکینوں اور مسافروں
کا حق ادا کرتے رہو اور اسراف اور بیجا خرچ سے بچو. "
سورہ بنی اسرائیل، آیت 26
حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ علیہ نے اس
طرح سے بیان کیا ہے :
’’قرآن حکیم کی
واضح تعلیمات کے مطابق مسلم معاشرے کو حکم دیا گیا ہے کہ نہ اسراف کیا جائے نہ
تبذیر‘ بلکہ راہِ اعتدال اختیار کی جائے۔ اسراف کا مطلب ہے حد سے زیادہ خرچ کرنا
اور تبذیر سے مراد ہے بے جا اور فضول خرچ کرنا۔"
اسلام کا اقتصادی نظام اس کے روحانی نظام کے تحت قائم
ہوتا ہے اور جو انسان کو اپنے ضرورتیں محدود کرنے اور دوسروں کو اپنے وسائل میں
شامل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
اس کا فائدہ اس دنیا میں انسانوں کے درمیان اتحاد،
یکجہتی، ہمدردی، امداد باہمی، تعاون اور معاشرے میں امن و سلامتی اور استحکام کا
باعث بنتا ہے تو دوسری جانب اس سے انسانوں کو اپنے خالق کی عبادت اور شکر گزار
بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے
آج کا دن اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم اللہ سبحانہ و
تعالٰی کا تخلیق کردہ دین اسلام کے عدل پر مبنی اقتصادی نظام کو دنیا بھر کے سامنے
پیش کریں ۔
آج موجودہ معاشی بحران ہم سب کو یاد دہانی کرا رہا ہے
کہ ہم اللہ کے بنائے ہوئے دین اسلام کی طرف واپس لوٹیں اور اس کے نفاذ کے لیے اپنا
کردار ادا کرنے کی کوشش کریں اور اس طرح نہ صرف اس دنیا میں سرخروئی حاصل کریں
بلکہ آخرت کی کامیابی حاصل کرنے کے لیے اہتمام کریں۔ آمین

0 Comments