Header Ads Widget

موجودہ جنگی صورتحال میں معاشی بحران The wartime and Economic Crises

تحریر: ممتاز ہاشمی

ایران پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ گیا ہے اور صیہونیت نے مسلمانوں ممالک کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کی سازش کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب نظر آتے ہیں نتیجے کے طور پر نہ صرف ایران اور ان مسلم ممالک کے درمیان ایک محاز آرائی شروع ہو چکی ہے مگر تیل اور دوسری آشیاء ضرورت کی ترسیل میں بہت بڑی رکاوٹیں پیدا یو چکی ہیں اس کا سب سے بڑا اثر دنیا بھر میں توانائی کے بحران اور تیل کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کی صورت میں سامنے آئی رہا ہے۔ 
اگرچہ اس سے دنیا بھر میں مہنگائی کا کی ایک نہی لہر شروع ہو رہی ہے۔
پاکستان اس سے براہ راست اور بری طرح متاثر ہو رہا ہے کیونکہ پاکستان کو تیل کی سو فیصد سپلائی اسی خطے سے ہوتی ہے جو سلسلہ اب منقطع ہو گیا ہے۔
اس وقت عالمی مارکیٹ میں کروڈ آہل کی قیمت کا 94$ تک پہنچ چکی ہے جو ائک ہفتہ قبل 68$ تھی۔ 
عالمی منڈی میں جب آہل کی خریداری کی جاتی ہے تو اس کی سپاٹ خریداری وام حالات میں مارکیٹ قیمت سے 2 یا 3 ڈالرز زاہد ہوتی ہے مگر آج جب غیر معمولی حالات ہیں اور تیک مارکیٹ میں ناپید ہے تو آج کے دن سپاٹ خریداری کو ریٹ بہت زیادہ ہے اور آسمانوں سے باتیں کر رہا ہے۔
ان حالات میں پاکستان شدید مشکلات کا سامنا کر رہا ہے اور تیل کو پرانی قیمتوں پر فروخت کرنا ناممکن ہو گیا تھا اس لیے آی ایم ایف نے بھی فوری طور پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ کا مطالبہ کیا تاکہ حکومت کے وسائل کو کم ہونے سے بچایا جائے اور آی ایم ایف کے مقرر کردہ اہداف حاصل ہونے میں زیادہ فرق نہ پڑے۔ اس لیے حکومت کو فوری طور پر قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ کرنا پڑا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کے ذخیرے کرنے کی گنجائش 25 تا 28 دن ہے۔ اور قانونی طور پر کمپنیوں کو 24 دن کے ذخائر ریزرو میں رکھنا لازم ہے۔
جہاں تک فوری طور پر قیمتوں میں اضافہ کا تعلق ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ابھی تو ریزرو ذخائر سے سپلائی جاری تھی تو اضافہ اس وقت کیوں کیا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ تمام کمپنیوں کو 24 دن کا ذخیرہ ریزرو رکھنا لازم ہے قانون کے مطابق۔ اسلئے تمام کمپنیوں کو ہر اس وقت مارکیٹ سے خریداری لازم ہے تاکہ 24 دن کا ریزرو قائم رہے۔ اب اگر وہ مارکیٹ سے مہنگا آج خریداری کر رہی ہیں تو کس طرح سے وہ سستا فراہم کر سکتی ہیں۔
اگر قیمتوں میں اضافہ اسوقت نہیں کی جاتا تو بہت بڑا بحران پیدا ہو سکتا تھا اور ملک انتہائی مہنگائی اور ہر چیز کی نایابی کا شکار ہو سکتا تھا 

اسلئے حقائق کو سمجھے بغیر تبصرہ کرنا یا سنی سنائی باتوں کو آگے بڑھانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ 
بھائی امریکہ اور کینیڈا جو تیل پیدا کرتے ہیں اور امپورٹ نہیں کرتے وہاں پر ایک ہفتے میں پٹرول و ڈیزل کی قیمت میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے۔ اور یہ سب عالمی مارکیٹ کی صورتحال کے باعثِ ہے۔
اب ذرا حکومتی طریقہ کار پر غور کریں تو اس میں کچھ خامیاں بھی نظر آتی ہیں۔
اگرچہ حکومت نے پٹرولیم لیوی میں کوئی کمی یا زیادتی نہیں کی جو کچھ حد تک کیا جا سکتا تھا مگر اس سلسلے میں آی ایم ایف کا دباؤ ریلیف دینے میں رکاوٹ بن گیا۔
دوسری طرف مہنگا ٹیک درآمد کرنے پر حکومت کو جو اضافی کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی مد میں آمدنی ہو گی اس کو عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں استعمال کیا جا سکتا تھا اور اسطرح سے پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے کی بجائے کچھ حد تک کمی کی جا سکتی ہے۔
اس کے علاوہ عوام کو اس مشکل ترین صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے سادگی پر مائل کرنے کی مہم چلانے کی ضرورت ہے اور اس کا آغاز حکومت کو ریاستی اخراجات میں کمی اور سادگی پر مبنی لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
امید ہے کہ حکومت اس اہم مرحلے پر ان گزارشات پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے فوری بعد پر اقدامات کا اعلان کرے گی۔


 

Post a Comment

0 Comments